• اپریل
1999
عبدالرحمن عزیز
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے
  • جون
1988
غازی عزیر
اس مشہور روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے یوں ذکر فرمایا ہے:

«انبانا محمد بن ناصر قال انبانا محمد بن على بن ميمون قال انبانا محمد بن على العلوى قال انبانا على بن محمد بن بيان قال حدثنا احمد بن خالد المرهبى قال حدثنا محمد بن على بن حبيب قال حدثنا العباس بن اسماعيل قال حدثنا الحسن بن عطية الكوفى عن ابى عاتكة عن انس قال قال رسول اللهﷺ : اطلبوا العلم ولو بالصين»
  • اکتوبر
1992
صلاح الدین یوسف
زکواۃ کا انکار؟

حدیث سے انحراف اور قرآن میں تحریف!

مسٹر غلام احمد صاحب پرویز کے نظریات کا پرچارک ماہنامہ"طلوع اسلام" جس کا مشن ہی اسلامی مسلمات کا انکار اور ان کی دوراز کارکیک تاویلات ہے۔
  • اگست
1993
اسحاق زاہد
ہفت روزہ "الاعتصام"لاہور مجریہ یکم جنوری 1993ء میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی کافتویٰ بعنوان"مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنے کاجواز" شائع ہواتھا۔جس پر جامعہ عربیہ(حنفیہ) گوجرانوالہ کے ایک فاضل مدرس مولانا محمد امیر نواز نے تعاقب فرمایا ہے جس میں انہوں نے احناف کے اس موقف کو ترجیح دینے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنا درست نہیں ہے۔
  • دسمبر
2006
محمد رمضان سلفی
حنفیہ کے ہاں طلاق کی اقسام : ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینے والوں کے دلائل کا جائزہ لینے سے قبل حنفی مذہب میں طلاق کی اقسام کو سمجھ لینا مناسب ہے، تاکہ آنے والے دلائل کی مراد سمجھنے میں آسانی رہے۔ حنفیہ کے ہاں طلاق کی تین اقسام ہیں :(1) احسن (2) حسن (3) بدعی
  • اگست
1979
محمد رمضان سلفی
ماہنامہ "محدث" کی مئی 89ء کی اشاعت میں ہم نے حدیث:
«اوتيت القرآن ومثله معه»
کی صحت کا  تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ منکرین حدیث نے اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرکے اُس کی جگہ عملی  طور پر ایسی چیزوں کو"«مثله معه»" یعنی قرآن کی مثل بنا لیا ہے۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اس کے منافی ہیں۔اور جنھیں قرآنی تفسیر میں اختیار کرنے سے حقیقی مسلمان کی روح تک کانپ اٹھتی ہے ۔اسی لئے اہل اسلام قرآنی مطالب متعین کرنے کے لئے شروع سے لے کر آج تک صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وہدایات(حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف رجوع کرتے رہے کیونکہ کلام الٰہی(یعنی قرآن کریم) سے مراد الٰہی کاتعین کرنے والی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی وحی ہونے میں قرآن کی مثل ہے۔اگرچہ وحی کی دوسری قسم یعنی وحی غیر متلو کے قبیل سے ہے
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
  • اکتوبر
1976
محمد سلیمان اظہر
ان دنوں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے کہ وہابی (نجدی) یا اہلحدیث کی اقتداء میں حنفی خصوصاً بریلوی نماز پرھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں۔ حرمین شریفین کے عالی قدر اماموں کی پاکستان میں آمد اور عوام کی طرف سے ان کی بے پناہ پذیراوی سے بوکھلا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہ بحث شروع کررکھی ہے اور فتویٰ بازی کا بازار گرم ہے۔
  • مارچ
1985
غازی عزیر
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)
  • جنوری
1992
غازی عزیر
غار جبل الثور کے دہانہ پر رونما ہونے والے معجزات کا جائزہ

عام طور پرمشہور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اذن مل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے آغاذ میں اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جبل الثورکے غار میں تین رات تک پوشیدہ رہے
  • مئی
1990
غازی عزیر
طبرانی حاکمؒ اور آجری ؒ کی ان تینوں سندوں میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے امام احمد بن حنبل ؒ ،ابن المدینی ،بخاریؒ ،ابو داؤد،نسائی،ابو حاتمؒ،ابو زرعہؒ، ابن سعد ؒ ، جو زجانی ؒ عقیلیؒ، ذہبیؒ،ہثیمیؒ، اور ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن معین ؒ فرماتے ہیں۔اُ کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی ۔علامہ  ذہبیؒ عثمان الدارمی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یحییٰ ؒ نےفرمایا وہ ضعیف ہے ۔"ایک اور مقام پر علامہ ذہبیؒ بیان کرتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن زید واہ یعنی کمزور ہے۔ابن خزیمہؒ کا قول ہے "یہ ان میں سے نہیں ہے۔جس کی حدیث کوا ہل علم حجت جانتے ہیں۔اور اس کا حافظہ خراب ہے۔طحاوی ؒ فرماتے ہیں۔اس کی حدیث علمائے حدیث کے نزدیک انتہائی ضعیف ہوتی ہے۔ساجی ؒ نے اسے منکر الحدیث " بتایا ہے ابو نعیم ؒ اور حاکم ؒ فرماتے ہیں اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔
  • اپریل
1985
غازی عزیر
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قرآن کریم میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے ،سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے۔

﴿ وَقُلنا يـٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ وَكُلا مِنها رَ‌غَدًا حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَ‌با هـٰذِهِ الشَّجَرَ‌ةَ فَتَكونا مِنَ الظّـٰلِمينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطـٰنُ عَنها فَأَخرَ‌جَهُما مِمّا كانا فيهِ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ وَلَكُم فِى الأَر‌ضِ مُستَقَرٌّ‌ وَمَتـٰعٌ إِلىٰ حينٍ ﴿٣٦﴾... سورة البقرة
  • فروری
2009
محمد زبیر
'اجتہاد' اور' جہاد' عصر حاضر کی دو مظلوم اصطلاحیں ہیں ۔ معاصراسلامی معاشروں میں جس قدرذہنی انتشار و فکری بگاڑ بڑھ رہا ہے، اس کی بڑی وجہ متجددین کاتصورِ اجتہاد ہے جبکہ دوسری طرف جتنی بھی منہج و عمل کی کج روی ہے، وہ متشددین کے نظریہ'جہاد'سے پھوٹتی ہے۔ویسے تو دنیا بھر میں ہی آئے روز نت نئے عجوبے پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن برصغیر پاک وہند اور مصر کوعالم اسلام میں اس لحاظ سے خصوصی امتیاز حاصل رہا ہے
  • جنوری
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
محدث کی ماہ مئی و جون کی اشاعت میں ایک مضمون بعنوان ''عمامہ اور اتباع سنت'' شائع ہوا۔ جس میں مصنف نے شعب الایمان للبیہقی کے حوالہ سے عمامہ کی فضیلت میں ایک روایت ذکر کرنے کے بعد اطاعت النبی ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عمامہ باندھنے پر زور دیا ۔ جہاں تک اطاعت نبیﷺ کا تعلق ہے، وہ تو ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی اہمیت سے انکار باعث کفر مگر جس چیز کو ثابت کرنےکے لیے انہوں نے
  • اکتوبر
1982
حکیم محمد یحیٰ
پانچویں صدی ہجری میں باطنیوں کی ایک تنظیم
از قلم ، جنا ب حکیم محمد یحیی فال صاحب
ماہنامہ ’’ محدث ،، لاہور کی جلد 12 کےنویں شمارہ میں جناب ڈاکٹر جبیب الرحمٰن الہی علوی کایک مضمون ’’ تاریخ کی روشنی میں تصو ف کی حقیقت ، ، کےنام سےشائع ہوا ہے۔اس میں تحقیق وتنقید کےانداز میں یوسف سلیم چشتی کےمقابلہ ’’ ہندوستان میں بھگتی تحریک ،، مطبوعہ ’’ میثاق ،، اکتبور 1980ء کےبعض حصوں پربڑی مفید اوربصیرت افروز گفتگو کی گئی ہےاورمروجہ تصوف کی غیر اسلامی ، عجمی اوردیدانتی اساس کی خوش اسلوبی سےاجاگر کیا گیا ہے۔ 
اتے اچھے مضمون میں ڈاکٹر علوی صاحب کےذھول یاتغافل کی بناء پربعض تسامحات،بھی راہ پاگئے ہیں جو،یوں توہرانسانی کا م میں ممکن الوقوع ہیں اورخطاونسیان کےاس مرکب کی چند درچند معذور یوں کی بنا ء پراس کےکام کااہمیت ونوعیت پران کا چنداں اثر نہیں پڑتا، تاہم ایسی قیمتی اوراصلاحی تحریر میں ان کاوجود علم وفکر اورتحقیق وتاریخ کی نگاہوں میں کھٹکتاہے۔
  • جون
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
فروری سئہ 88ء کا محدث پیش نظر ہے۔ مذکورہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکرینِ معجزات کے اعتراضات کا جائزہ" میں مولانا کیلانی نے:

1۔ تاریخِ مدینہ کی معتبر کتاب "وفاء الوفاء" کے مصنف سمہودی (م 911ھ) کے متعلق لکھا ہے:

"صاحبِ وفاء الوفاء سمہودی دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ مارے ہیں۔ اس سے "سمہودی" کی بے کار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔"
  • اکتوبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دنوں ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کےزیرِ اہمتام '' مسلمانوں کےبارے میں مغرب کاتصور اورمغرب کےبارے میں مسلمانوں کاتصور، ، کےعنوان پر سےمنعقدہ سیمینار میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نےخطاب کرتےہوئےکہا کہ اسلام کےسیاسی فلسفہ کی بنیاد جمہوریت ک‎پر مبنی ہے۔ انہوں نےواضح کیاکہ'' اسلام کےخلاف نظریاتی تنازعہ مکمل طورپر غیرضروری ہ ے۔وہ لوگ جواسلام کی مغرب کادشمن سمجھتےہیں اورمغرب اوراسلام میں جنگ دیکھتے ہیں وہ ایک محدود تاریخی پس منظر رکھتےہیں ۔ انہوں نےکہا کہ اسلامی بنیادپرستی کومغرب نےبڑھا چڑھا کر پیش کیااور اسے شکست دینے پرزور دیا ، اسلام کی بنیاد پرستی پرمسلمانوں کوفخر ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں : توحید ، رسالت ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، اورحج ، ان پرعمل کرکےبہت سے مسلمان اپنے آ پ کو سچا مسلمان گردانتے ہیں ، کیا یہ بنیاد پرستی ہے؟ ہرگز نہیں ! انہوں نےکہا کہ بنیاد پرستی (فنڈا میشلزم ) کی اصطلاح عیسائیت سےآئی ہےلیکن اسے اسلام پرتھوپ دیا گیا ،، - ( روزنامہ جنگ ،،لاہور 70۔اکتوبر 1997ء )
  • مارچ
  • اپریل
1976
فلپ کے ہٹی
(ڈاکٹر ہٹی (PHILIP K. HITTI) عربی زبان اور تاریخ کے مشہور ماہر ہونے کی حیثیت سے مغربی دنیا میں مشرقِ قریب کے مسائل پر سند سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے عرب اور اسلام کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مختلف انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار ہیں۔ ان کی کتابیں یورپ اور ایشیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہی ہیں۔ وہ مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں۔
  • جون
2007
محمد رفیق چودھری
ٹی وی کے دانشورجناب جاوید احمد غامدی صاحب (بی اے آنرز، فلسفہ) کے نظریات دین اسلام کے مسلمہ، متفقہ اور اجماعی عقائد و اَعمال سے کس قدر مختلف ہیں اور اُن کی راہ اُمت ِمسلمہ اور علماے اسلام سے کتنی الگ اور جداگانہ ہے، اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ذیل میں اُن کی تحریروں پر مبنی ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کے مطالعے سے آپ خود یہ فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ علماے اسلام اور غامدی صاحب میں سے کون حق پر ہوسکتا ہے؟
  • جنوری
1994
ابوبکر الجزائری
(مولانا کوثر نیازی کے جواب میں)

سب سے پہلے عورت کی سر براہی کے جواز یا عدم کے بارے میں اس وقت کی مختلف علمی شخصیتوں نے اخبارات و رسائل میں مضائین لکھنا شروع کئے جب محترمہ فاطمہ جناح صدر محمد ایوب خان کے مقابلہ میں میدان سیاست میں اتریں ۔
  • مئی
1978
برق التوحیدی
پچھلی مرتبہ ہم نے قاضی صاحب کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کی تھیں اور چند خدشات کی طرف اشارہ بھی کیا تھا لیکن جب قاضی صاحب کے مضمون کی دوسری قسط (جوسرقہ کے متعلق ترجمان القرآن شمارہ 4 جلد88 میں ہے) سامنے آئی تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بعینہ وہ خطرات منڈ لا رہے ہیں او روہی مفسدات و منکرات سراٹھاتے نظر آتے ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا۔
  • فروری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 3
ملکیتِ مال ۔۔۔ اور ۔۔۔قرآن مجید
قل العفو (29/2) پر بحث:
قرآن کریم میں اس بات کی کیا دلیل ہے کہ افراد اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اس قدر کے ہی حق دار ہیں، جو فرد کا سب کی محنت کے بقدر ہو اور اس سے زائد کمائی کے وہ مالک نہیں ہو سکتے؟ اس کے جواب میں سورۃ البقرۃ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ... ٢١٩﴾... البقرة 
"وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو بہترین چیز ہو۔"
پرویز صاحب کا استدلال یہ ہے کہ یہاں عفو کے انفاق کا حکم ہے لغتِ عرب میں چونکہ عفو المال کے معنی زائد از ضرورت ، مال کے بھی ہیں۔ اس لئے یہاں تمام زائد از ضرورت مال کے، انفاق کا حکم دیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ فاضلہ دولت کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
  • دسمبر
1988
پروفیسر محمد دین قاسمی
پاکستان کی مذہبی فضا  میں غلام احمد پرویز ایک ایسی شخصیت واقع ہوئے ہیں جس نے اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں مغربی افکار و کردار کو اصل قرار دے کر قرآن کے نام پر اجتہاد کی قینچی سے اسلام کی کتربیونت میں وہ کچھ کیا ہے جو پاکستان میں کوئی اور شخص نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ اشتراکیت کو من و عن قبول کر کے، اسے عین اسلام ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کو جس طرح عمر بھر تکتہ مشق بنائے رکھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پرویز صاحب نے مارکسزم کو قرآن کریم کے جعلی پرمٹ درآمد کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں اور جو اشتراکیت کو بہا لانے کے لئے قرآنی تعلیمات میں مسخ و تحریف کی راہ میں جو کوہ کنی کی ہے، پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب نے اس کا خوب جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس طویل جائزے میں اس امر کو بے نقان کر دیا ہے کہ پرویز صاحب نے کس طرح تصریفِ آیات کے نام پر صرفِ آیات سے کام لیا ہے اور محاورات عرب کی پابندی کے التزام کا دعویٰ کر کے کس طرح اس سے گریز کیا ہے اور قرآنی الفاظ کے قطعی ہونے کی دہائی دے کر کس طرح ان الفاظ میں اپنے خود ساکتہ معانی داخل کئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ جائزہ منکرینِ حدیث کی مخصوص ذہنی ساخت کے پیشِ نظر صرف قرآن کریم کی روشنی میں لیا ہے۔ اس ماہ سے ہم ماہنامہ "محدث" میں اس جائزے لے کر بالاقساط پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادارہ
  • جون
1989
محمد دین قاسمی
سوشلزم یا کمیونزم کیسا نظام ہے؟پرویز صاحب نے اس کا جواب بڑی تفصیل سے اپنی مختلف کتب میں دیا ہے۔

کمیونزم کا جوتجربہ روس میں ہورہا ہے نوع انسانی کے لئے بدترین تجربہ ہے۔جس میں اول تو انسانی زندگی اور حیوانی زندگی میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔دونوں کی زندگی محض طبعی زندگی سمجھی جاتی ہے۔جس کاخاتمہ موت کردیتی ہے۔لہذا اس میں انسانیت کے تقاضے طبعی تقاضوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھے جاتے۔
  • مئی
1989
محمد دین قاسمی
قرآن کے جعلی پرمٹ پر نام نہاد"نظامِ ربُوبیّت"کامنزل بمنزل نفاذ

پرویزصاحب،زندگی بھر،جہاں اشتراکیت کو"نظامِ ربوبیت"کے نام سے مشرف باسلام کرنے میں کوشاں رہےہیں،وہاں وہ امّتِ مسلمہ کو یہ باور کروانے کی ناکام کوشش بھی کرتے رہے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلّم نے اسی نظام کو بتریج نافذفرمایاتھا،جو اموال واراضی کی شخصی ملکیت کی نفی پر قائم تھا،