• ستمبر
2012
محمد عاصم حفیظ

ظلم، نا انصافی اور توہین کے خلاف صداے احتجاج بلند کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اور جب یہ توہین کسی ایسے مسئلہ پر ہو جس کا تعلق گہرے قلبی اور روحانی معاملہ سے ہو تو رد عمل میں شدت کا آ جانا ایک لازمی اَمر ہے۔ حالیہ چند برسوں میں ڈنمارک کے اخبار میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ہو یا فیس بک اور دیگر ویب سائٹس پر کارٹون مقابلوں کا اِعلان، عراق اور گوانتاناموبے میں قرآن پاک کی بے حرمتی ہو

  • مارچ
2006
محمد علی جانباز
اسلام ذاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر ایمان لانے کے بعد ہی انسان حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور نبی آخر الزمانؐ سے دنیا جہاں سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دین کے تمام احکامات کے ہمارے علم میں آنے اور خود قرآن کے معلوم ہونے کا مصدر ومحور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ گرامی ہے۔پھر قرآن کریم میں جابجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت ہی قرار دیا گیا ہے۔
  • جنوری
1982
اکرام اللہ ساجد
ربِ ذوالجلال والاکرام کے لیے یہ کچھ مشکل نہ تھا کہ چھٹی صدی عیسوی کے وہ لوگ جو دینِ حنیف کو چھوڑ کر شرک کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے اور معبودِ حقیقی سے منہ موڑ کر سینکڑوں خود ساختہ خداؤں کے سامنے اپنی پیشانیاں رگڑ رہے تھے، اچانک ایک ایسی زور دار آواز سے ۔۔۔ کہ جس کو وقت کا ہر ذی شعور سن اور سمجھ سکتا ۔۔۔ چونک اٹھتے کہ: "لوگو، فلاں مقام پر ایک کتاب موجود ہے، جاؤ اسے تلاش کر کے اس پر عمل کرو اور اس میں اپنی دنیاوی اور اخروی فلاح کے سامان تلاش کرو کہ یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے ۔۔۔ اور اس کے کتابِ الہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں" ۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
پھر یہ بھی نہیں ہوا کہ ایک خاص وقت میں ایک کتاب آسمانوں سے اس طرح اترتی کہ اس کے نزول کی کیفیت کو وقت کا ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ۔۔۔ اور اس بناء پر لوگوں کو اس کے "منزل من اللہ" ہونے کا یقین ہو جاتا تاکہ وہ اپنی زندگیاں اس کی ہدایات کے تحت بسر کر سکیں ۔۔۔ یہ، اور ایسی کسی بھی صورت کو واقعات اور عقل تسلیم کے لیے تیار نہیں ہیں!
  • ستمبر
2012
منیرقمر سیالکوٹی

گستاخانِ رسولﷺ اور ناموسِ رسالت پر کیچڑ اُچھالنے والوں کو قرآنِ کریم ، سنتِ رسول ﷺ، اجماعِ صحابہ ، اجماعِ اُمت اور قیاسِ صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے اور نبیﷺکو اذیت پہنچانے ، آپ ﷺ کا مذاق اُڑانے اور استہزا کرنے والوں کی سزا قتل طے پائی ہے۔ آیئے ان تمام دلائل پر باری باری سرسری نظر ڈالیں