حِوار سے مراد باہمى گفتگو، كسى عنوان پر مباحثہ كرنا اوركسى موضوع سے متعلق سوال و جواب كرنا ہے،كيونكہ حِوار باب مفاعلة كا مصدر ہے جس ميں مشاركت كا معنى پايا جاتا ہے- حَاوَرَ يُحَاوِرُ مُحَاوَرَةً وَّحِوَارًَا قرآن مجيد ميں يہ لفظ اسى مفہوم ميں وارد ہوا ہے: سورة الكہف ميں دو بهائيوں كا تذكرہ كرتے ہوئے اللہ تعالىٰ ارشاد فرماتے ہيں :
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَنَا أَكْثَرُ‌ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرً‌ا ﴿٣٤﴾وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِ أَبَدًا ﴿٣٥﴾ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّ‌دِدتُّ إِلَىٰ رَ‌بِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرً‌ا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ﴿٣٦﴾ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُ‌هُ أَكَفَرْ‌تَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَ‌ابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَ‌جُلًا ﴿٣٧...سورۃ الکہف
2005
  • ستمبر
آج کل الیکٹرانک میڈیا (ٹی وی،انٹرنیٹ،ریڈیو وغیرہ) اور پرنٹ میڈیا (اخبارات ورسائل) نشرواشاعت کے جدید اور انتہائی مؤثر ذرائع ہیں جن کے ذریعے لاکھوں اور کروڑوں افراد تک اپنی آواز پہنچائی جا سکتی اور ان کے دل و دماغ کو متاثر کیا جا سکتا ہے ۔ان ذرائع ابلاغ کے موجد چونکہ ملحد اور سیکولر قسم کے لوگ ہیں جو کسی قسم کے اخلاقی اُصول اور ضابطۂ حیات کے قائل نہیں
صلاح الدین یوسف
2008
  • جون
المورد کے اسسٹنٹ فیلوجناب محمد عمار خان ناصرکی طرف سے ماہنامہ 'اشراق'جولائی واگست 2003ء میں 'مسجد ِاقصیٰ،یہود اور اُمت ِمسلمہ 'کے عنوان سے ایک طویل مضمون شائع ہوا۔چونکہ محترم عمار صاحب نے اپنے اس مضمون میں اُمت ِمسلمہ کے عام موقف کے بالکل برعکس ایک نئی رائے کا اظہار کیا تھا،اس لیے کئی علمی حلقوں کی طرف سے ان کو مختلف قسم کی علمی اورجذباتی تنقیدی آرا کا بھی سامنا کرناپڑا۔
محمد زبیر
2007
  • جون
دوستوں نے اب تک جوگفتگو کی ہے، ماشاء اللہ پورے اخلاص اور پوری تیاری سے اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ میں اس اہم مجلس کے انعقاد پر ملی مجلس شرعی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اس سلسلے میں میری مختصرگزارشات حسب ِذیل ہیں :1983ء میں جماعت ِاسلامی میں اس موضوع پر اختلاف ہوا اور 1983ء سے 1991ء تک ہم نے وقتاً فوقتاً اس موضوع پر مباحثے منعقد کیے
عبد الملک
2008
  • جون
الحمد ﷲ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی خاتم النبیین وبعد! ...
ہمارے پیش نظر دو چیزیں ہیں، ایک تصویر کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟اور دوسری یہ کہ تصویری میڈیا میں اسلامی عقائد و افکار کی تبلیغ و ترویج کی غرض سے حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ ان ہر دو مسائل کا حکم بھی الگ الگ ہے۔
محمد رمضان سلفی
2008
  • جون
تورات،زبور،انجیل،قرآن مجید

لفظ تورات پر بحث:

تورات عبرانی زبان کا لفظ ہے۔اس کا اصل معنی شریعت یا ناموکس یعنی "سرى شئ" ہے۔یہود کی اصطلاح میں یہ پانچ چھوٹی چھوٹی کتابوں سے عبارت ہے۔
ثنااللہ مدنی
1989
  • جون
تصویر کے شرعی حکم کے بارے میں یہاں بہت سے علماے کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اور بعض علمانے اس کی حرمت کو منصوص قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس پر تو بات بھی نہیں کرنی چاہیے۔میں اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ بلا حیل وحجت اور بغیر کسی تغیر وتبدل کے نص پر عمل کرنے کی حتیٰ المقدورکوشش کرنابڑی اچھی روش ہے،
محمد شفیق مدنی
2008
  • جون
محدث کے ’تصویر نمبر‘ پر ایک دوسرے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے ’سلسلہ تفہیم السنہ‘ کے فاضل مصنف مولانا اقبال کیلانی نے اپنی رائے کا اظہار فرمایا ہے اور علماے کرام سے اپنے فتویٰ پر نظرثانی کی دردمندانہ درخواست کی ہے۔ اس سلسلے میں مزید مضامین اور بحوث وردود کا سلسلہ ’محدث‘ میں جاری ہے جس کے لئے ادارہ محدث نے بعض دیگر اہل علم سے بھی اس موضوع پر لکھنے کی درخواست کی ہے۔
اقبال کیلانی
2008
  • دسمبر
محترم و مکرم جناب مفتی دارالعلوم دیوبند السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ'
آپ کو معلوم ہے کہ خانۂ کعبہ اور مسجد ِنبوی میں نماز کے بعد اجتماعی دعا نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے افتاء سے متعلق علماء ِکبار کی ایک مستقل کمیٹی کافتویٰ ہفت روزہ 'اہلحدیث' لاہور میں ۷ ؍فروری ۱۹۸۶ء کو چھپا تھا، اس کا اقتباس حاشیہ میں ملاحظہ کریں۔
محمد سرور
2004
  • اکتوبر
صورۃ الشيئ کا معنی ہوتا ہے: ھیئتہ الخاصَّۃ التي یتمیَّز بھا عن غیرہ ''اس کی مخصوص ہیئت وشکل جس کے ذریعے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوجائے۔'' اسی لیے اللہ تعالیٰ کو مُصوِّر کہا گیا ہے، کیونکہ ا س نے تمام موجودات کو ان کے اختلاف وکثرت کے باوجود مخصوص شکل اور الگ ہیئت عنایت فرمائی ہے
عبدالعزیز علوی
2008
  • جون
چند برس قبل حلقہ اشراق نے مسجد اقصیٰ کے بارے میں سلسلۂ مضامین شائع کرنے کے بعد مسلم اُمہ میں پہلی باریہ دعویٰ کیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے متولی مسلمانوں کے بجائے شرعاً یہود ہیں اور مسجد اقصیٰ پر یہود کا ویسا ہی حق ہے جیسے بیت اللہ پر مسلمانوں کا۔ بعض حالیہ بحثوں میں ان کا موقف مزید نکھر کرسامنے آیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو حقائق سے ماورا مسلمانوں کی خود ساختہ مسجد ِاقصیٰ قرار دیتے ہیں
حسن مدنی
2007
  • اپریل