اتحاد، اتفاق، وحدت اور یکجہتی بڑے مؤثراورمعنیٰ خیز الفاظ ہیں۔ ان کا ایک مفہوم تو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے، تودوسری طرف ان کا ایک مفہوم عوام میں بھی رائج ہے۔ زیر نظر مضمون میں دونوں میں فرق پیش کرنے کے بعد،اتحاد کا اصل مفہوم اور اسکے ثمرات کا ذکر کیا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ
محمد نعمان فاروقی
2014
  • دسمبر
سیاسی آزادی کے باوجود مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کے باعث عیسائی مبشرین کی ہمت کتنی بڑھ گئی ہے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ کویت میں پہلی بار ایک بڑا گرجا تعمیر ہو رہا ہے، جس کا مینار تمام مساجد کے میناروں سے اونچا ہے۔ اس سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہنوز مغربی قوموں کے غلام ہیں اور قدرتی ذخیرے جو ان کے حصے میں آئے ہیں
محمد یوسف خان
1973
  • اکتوبر
  • نومبر
پچھلے سال رمضان المبارک 1393ھ میں مکہ مکرمہ میں رابطۂ عالمِ اسلامی نے دنیائے اسلام کے ماہرین فلکیات کو دعوتِ غور و فکر دی کہ ہجری کیلنڈر، معیاری وقت اور اسلامی مہینوں کے تعین کے بارے میں جو دقتیں در پیش ہیں انہیں کس طرح دور کیا جائے۔ چنانچہ تین دن تک بحث مباحثے کے بعد متفقہ طور پر کئی اور امور کے علاوہ ایک اسلامی رصد گاہ کے قیام کا بھی فیصلہ ہوا جو مکہ مکرمہ کے قریب قائم کی گئی ہے۔
ادارہ
1974
  • ستمبر
  • اکتوبر
غیر مسلم اقوام کی مادی، صنعتی اور طبیعیاتی ترقیات اور ان کی محیرّ العقول ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر بعض مسلم اقوام سخت حیران ہیں بلکہ ایک تحت الشعوری احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اسلاف کے واقعی یا فرضی کارناموں کے بوسیدہ دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ روش بجائے خود اسلام کے منافی ہے۔
منظور احسن عباسی
1973
  • فروری
قرآنِ حکیم نے انسانی زندگی کے دو شعبے قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک کو ہم تقاضائے حیات سے اور دوسرے کو مقاصدِ حیات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ فکری الجھنیں محض اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم نے ان تقاضا ہائے حیات کو مقاصدِ حیات تصور کر لیا ہے۔ کھانے پینے کی خواہش، جنسی میلانات، عیش و آرام کی طلب، خوب سے خوب تر کی تلاش، جمالیاتی ذوق، مکارہ سے بے زاری، حادثات سے تحفظ، زندگی سے محبت، مرض اور موت سے نفرت اور ہمہ جہتی ارتقائی رجحانات انسانی زندگی کے لوازمات یا تقاضوں میں سے ہیں۔
منظور احسن عباسی
1973
  • مارچ
مادی ناز و نعم اور دنیوی ترقیات کو ایمان و اسلام کا ثبوت یا اس کے مقاصد میں سے تصور کرنا اسلام کی توہین ہے۔ اسی طرح یہ خیالات کہ کسی فرد یا جماعت کا ترفع یا حکومت و سلطنت، مال و جاہ، ایجادات و اختراعات اور علم و ہنر میں برتری حاصل کر لینا ہی اس کے مذہبی عقائد یا اخلاقی نظریات کے برحق ہونے کی دلیل ہے اور یا یہ خیال کرنا کہ جو لوگ مادی تفوّق کے اس مقام پر فائز ہیں
منظور احسن عباسی
1973
  • اپریل
فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز چانسلر اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ و صدر اعلیٰ مشاورتی کمیٹی یونیورسٹی ہذا کی دعوت پر یونیورسٹی کی اعلیٰ مشاورتی کمیٹی کا چھٹا اجلاس ہوا، اجلاس کی کاروائی نو روز تک چلتی رہی ہر روز ایک نشست ہوئی۔ تمام تر اجلاس چانسلر یونیورسٹی کی صدارت میں ہوا، اس اجلاس میں حسبِ ذیل ماہرین تعلیم، ممتاز علماء اور مفکرین نے شرکت کی۔
ثناء اللہ بلتستانی
1974
  • ستمبر
  • اکتوبر
اسلام نے ترکہ ''وراثت'' ''صدقہ و زکوٰۃ'' وغیرہ نظام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے درجاتِ معیشت میں گو تفاوت ہے مگر ایک ساتھ زندگی گزارنے کا حق سب کو یکساں ہے آج اگر کوئی رات کی روٹی اور جسم کے کپڑا کے لئے محتاج ہے اور کوئی ہزارہا یا لکھو کہا کا مالک ہے تو یہ محض اس لئے ہے کہ حق معیشت کی جو ذمہ داری کتاب و سنت نے ہم پر ڈالی ہے، اسے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے۔ صدقات واجبہ عشر و زکوٰۃ کی ادائیگی آج مسلمانوں میں بند ہے۔
عبدالرؤف
1970
  • دسمبر
موجودہ دور میں پاکستانی قوم اپنی تاریخ کے ایک نازک مقام پر کھڑی ہے۔ وہ بہت سے ایسے مسائل سے دوچار ہے، جن میں دو ٹوک فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سرفہرست پاکستان کا موجودہ اقتصادی بحران ہے۔
پاکستان کی معیشت مدتِ دراز (1960ء) سے قرضوں کے سہارے چل رہی ہے اور آج ان قرضوں کے بڑھتے ہوئے جال نے صورت حال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے فورا بعد 1948ء میں تو پاکستان اس قابل تھا کہ وہ جرمنی کو غلہ برآمد کر سکتا۔ مگر حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی کی بدولت جلد ہی وہ مرحلہ بھی پیش آیا کہ پاکستان میں گذائی بحران پیدا ہو گیا اور امریکہ سے گندم درآمد کرنا پڑی۔
ام عبدالرب
1998
  • جنوری
پندرھویں صدی ہجری امت مسلمہ کے سامنے فکر و عمل کی ایک دعوت پیش کر رہی ہے۔ آج امت کے ہر فرد کو اپنے نصب العین مقاصد اور فرائض کا شعور اپنے اندر پیدا کرنا ہے۔ اپنی منزل کا تعین کر کے اس تک پہنچنے کے لیے تمام کوششیں صرف کر دینا ہے اور نتیجتا دنیا کے سیاسی اور فکری افق پر اسلام کو غالب نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ موجودہ حالات اسی کا تقاضا کرتے ہیں اور امت کی بقاء اور عروج کا انحصار اسی بات پر ہے۔
اسلام زمان و مکان کی تمام بندشوں سے بالا ایک دین ہے۔ جو بنی نوع انسان کے سامنے امن و سلامتی کی دعوت پیش کرتا ہے اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام کے اندر وہ فطری اور استدلالی قوت ہے کہ جب بھی اس کے اپنے رنگ میں کوششیں کی گئیں یہ غالب نظام کے طور پر ابھرا۔ دنیا کے ہر نظام اور قوتِ پر غالب آنا اس کی نیچر ہے کیونکہ حق کی شان ہی یہ ہے کہ (ألحق  يعلو ولا يعلى عليه) یعنی حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور اس پر کوئی چیز غالب نہیں آ سکتی۔ ہادی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عالمگیر حقیقت کو دعوتِ اسلام کے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا۔ جب "لا اله الا اللہ" کو پیش کیا تو اس کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی:
(هى كلمة واحدة  تعطونيها  تملكون بها العرب  وتدین لکم بها  العجم)
یعنی بظاہر تو یہ ایک کلمہ ہے۔ لیکن اس پر ایمان و عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ تم عرب کے مالک ہو گے اور پورا عجم تمہارے زیرنگیں ہو گا۔
حافظ محمد سعید
1981
  • ستمبر
  • اکتوبر

1۔ 21ستمبر2001ء:... وائس آف امریکہ VOA کی ریڈیو پشتو سروس کا نمائندہ بذریعہ سٹیلائیٹ فون ملا عمر سے پوچھتا ہے:
VOA: آپ اسامہ بن لادن کو نکال کیوں نہیں دیتے؟
ملّا عمر: اسامہ بن لادن کا مسئلہ نہیں ہے،مسئلہ' اسلام' کاہے۔ اسلام کی شان و شوکت کا سوال ہے اور افغانوں کی روایت کا۔

عاطف بیگ
2012
  • مئی
اُمت ِمسلمہ میں آج ہر طرف بے چینی اور انتشار ہے، عرب مسلمان انقلاب کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے کیسے رویّوں سے مسلم عوام تنگ ہیں، اس کی ایک جھلک ذیل کے مضمون میں ملاحظہ فرمائیے۔ ح م
آج اُمت ِمسلمہ نہ صرف اپنے ربّ سے دوری اور دین سے محرومی کا شکار ہے بلکہ دنیا بھی اس کے ہاتھوں سے جاتی رہی ہے۔
حافظ صلاح الدین
2011
  • اپریل
روافض کے باطل نظریات کے خلاف مسجد ِنبویؐ سے بلند ہونے والی مجاہدانہ صدا
1979ء كے انقلابِ ايران كے بعد پہلی بار 1998ء میں ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کا تفصیلی دورہ کیا جس میں سعودی نظام حکومت سے لے کر، عرب معاشرے اور سعودی شہروں دیہاتوں کی مشاہدے وزیارتیں بھی شامل تھیں۔
عبدالرحمن حذیفی
2012
  • مئی
مندرجہ ذیل مضمون اصل میں آزاد کشمیر اسمبلی اور سرکار کی خدمت میں ایک ''ہدیہ تبریک'' اور ان سے خوش آئندہ توقعات کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے کہ ہزار کمزوریوں کے باوجود جب سرکار کی طرف سے 'صدائے اسلام' بلند ہوت ہے تو مسلم عوام اپنی آنکھیں بچھانے لگ جاتے ہیں اور یوں شادماں گھر سے نکلتے ہیں جیسے آج ان کی عید ہو گئی ہو اور یہ بات اس امر کی دلیل ہوتی ہے
ادارہ
1974
  • جولائی
  • اگست
آج ملتِ اسلامیہ اپنی تاریخ کے انتہائی نازک ترین دَور سے گزر رہی ہے۔ طاغوتی طاقتیں اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت اسے فہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کے لئے صف آراء ہو رہی ہیں۔ آج قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ کے فرزندوں میں نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر ان کی ملّی وحدت کے عظیم الشان قصر میں نقب لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ علاقائی عصبیتوں کو اچھال اچھال کر انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا جا رہا ہے۔
ایم- ایم- اے
1973
  • فروری
بہت طویل عرصہ کے بعد عالم اسلام کے نامور دانشوروں کا ایک زبردست اجتماع شہر لاہور میں منعقد ہوا۔ لاہور جسے چوتھی اسلامی سربراہی کانفرنس (۱۹۷۳ء) کی میزبانی کا شرف حاصل ہے، انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس (۲۰۰۰ء) کے مندوبین کی میزبانی کا اعزاز بھی اسے میسر آیا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس اگر اسلامی ریاستوں کے سربراہوں کی کہکشاں کا منظر پیش کر رہی تھی
عطاء اللہ صدیقی
2001
  • جنوری
حج اسلام کا ایک اہم فریضہ اور ایسی عبادت ہے جس میں بے شمار حکمتوں اور فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں جن کو سمیٹ کر انسان دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوسکتا ہے۔ اللہ عزوجل اس حقیقت کا اظہار یوں فرماتے ہیں: ﴿لِيَشهَدوا مَنـٰفِعَ لَهُم...٢٨ ﴾... سورة الحج
"لوگوں کو چاہئے کہ یہاں آکر دیکھیں کہ حج میں ان کیلئے کیسے کیسے دینی اور دنیاوی فوائد ہیں"
شیخ مزمل احسن
2002
  • جنوری
اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرِ خدا ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ:

1. اسلام اور غیر اسلامی مذاہب میں کیا فرق ہے؟

2. محمدی تصوّرِ مملکت کیا ہے؟
عزیز زبیدی
1976
  • مارچ
  • اپریل
ان کالموں میں یہ مضمون درس قرآن، جس کی ابتدا ہم نے اپریل ۷۲ء سے کی تھی، کی قسط نمبر ۲ کی جگہ شائع کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے ہم ان شاء اللہ ''اسلامی معیشت نمبر'' میں مسئلہ معیشت کی شرعی حیثیت سے ایک مستقل مضمون کی شکل میں ہدیۂ قارئین کریں گے۔نیز خاص نمبر تک ہم نے درسِ قرآن کو ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اس وقت کئی دیگر مضامین کی فوری اشاعت (جس کا ہم اعلان کر چکے تھے) بھی ہمارے پیش نظر ہے۔
ریاض الحسن نوری
1972
  • جون
ہر طرف شورِ آہ و بکا ہے، معصوموں کی دل دوز اور جگر سوز چیخیں ہیں، لہو کے چھینٹے ہیں، گوشت کے ٹکڑے ہیں، عصمتوں کے خون ہیں۔ اور ان سب کی قیمت ایک وحشیانہ قہقہے سے زیادہ نہیں۔ آہ یہ چیزیں اتنی سستی تو نہ تھیں۔ مسلمان تو ان کی حفاظت کی خاطر ہزاروں میل کا سفر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کر سکتا تھا مگر آج کوئی محمد بن قاسم موجود نہیں، کوئی طارق بن زیاد نہیں، کوئی موسیٰ بن نصیر نہیں، کوئی قیتبہ بن مسلم باہلی نہیں،
اکرام اللہ ساجد
1972
  • دسمبر
  • جنوری
پاکستان بن گیا، بن کر پھر ٹوٹ گیا اور ٹوٹ کر کچھ حصہ پھر غلام بن گیا۔ مگر دونوں جگہ 'نعرہ آزادی' کے اس ڈھونگ سے متاثر ہو کر عوام کالانعام بھی یہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ واقعی ہم آزاد ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دنیا میں 'آزادی اور حریت' کا مفہوم اور مضمون یہی ہو، جس کی نشان دہی وہ لوگ کر رہے ہیں لیکن 'بندۂ مسلم' کے ہاں حریت اور آزادی کا یہ مفہوم، حریت پر ایک الزام، تہمت اور افتراء ہے جس کو سیاسی شعبدہ بازوں نے گھڑ کر لوگوں کو اپنی غلامی میں پختہ اور مخلص بنانے کے لئے ایک بھونڈی سازش کے طور پر اختیار کیا ہے۔
ادارہ
1975
  • مارچ
  • اپریل
قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کی ناپاک جسارت اور قوم کا رویہ
بارِ الٰہ! یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مسلمان اس قدر مجبور و لا چار بنا کے رکھ دئیے جائیں گے یا خود ہی اس قدر بے حس ہو جائیں گے۔ ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا میں موجود ہوں اور ایسے ایسے واقعات پیش آئیں کہ دل کی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہو۔
ثریا بتول علوی
2012
  • مارچ
۱۰ تا ۲۳؍ جولائی الجزائر میں علماء کا اجتماع ہوا جسے ''الملتقی السابع للتعرف علی الفکر الاسلامی'' کہا جاتا ہے یعنی ساتواں اجتماع اسلامی فکر کی نشاندہی کی غرض سے۔ ایسا اجتماع ہر سال حکومت الجزائر کی ''وزارۃ التعلیم الاصلی والشوؤن الدینية'' اپنے اہتمام سے اور اپنے خرچ پر منعقد کیا کرتی ہے۔

(التعلیم الاصلی سے مراد دینی تعلیم ہے)۔ امسال ساتواں اجتماع تھا۔
محمد یوسف خان
1973
  • جولائی
  • اگست
اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے بالعموم یہ کہا جارہا ہے کہ آج کل وہ عالمی سطح پر جن آزمائشوں سے گذر رہے ہیں، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی، لیکن ان کا یہ خیال حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک سچا مؤمن و مسلم آنے والے مسائل و مصائب کو ہمیشہ دینی و اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ دعوتی نظر سے دیکھا جائے تو ان حالات نے ان میں پہلے سے زیادہ خود اعتمادی اور دینی جوش و ولولہ پیدا کردیا ہے۔
الیاس ندوی
2003
  • مئی
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو جماعت اسلامی نظامِ خلافت کا دعویٰ لے کر اُٹھتی ہے وہ خود کن صفات سے متصف ہونی چاہئے؟ اس کی وضاحت سورۂ شوریٰ کی مندرجہ ذیل آیات میں ملتی ہے جو مکی دور کے آخر میں نازل ہوئیں۔ ارشاد باری ہے:
ادارہ
1981
  • مارچ
  • اگست