اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے۔
حفیظ الرحمان احسن
1976
  • مئی
انسان میں گناہوں اور رذائل کی جانب رغبت کا میلان موجود ہے،انسان میں نفس امارہ ہرلمحہ اسے گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ جب سلیم الفطرت انسان کسی گناہ یا غلط کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ یہ جان رہا ہوتا ہے کہ وہ غلط کام یا ظلم وزیادتی اور فسق وفجور کررہا ہے، رسول اللّٰہﷺ کے طریقے کی مخالفت کررہا ہے اور اللّٰہ کے فرامین سے بغاوت کرکے اس کے قہر وغضب کو دعوت دے رہا ہے۔
رضیہ مدنی
2013
  • مارچ
اللہ تعالیٰ نے انسان کے ظاہروباطن دونوں کی اصلاح کے لیے شریعتِ اسلامیہ اور انبیاء ورسل کا سلسلہ جاری فرمایاہے۔ انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ باطن کی نسبت ظاہر پر توجہ زیادہ دیتی ہے اور باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر شریعت پر عمل ہی کو کل دین سمجھ لیتی ہے۔ سابقہ مسلمان اقوام مثلاًیہود پر بھی ایک زمانہ ایسا آیا کہ
محمد زبیر
2011
  • مئی
مطلق لفظ ''خُلق'' میں حسِ خلق اور سوء خلق دونوں معانی پائے جاتے ہیں، لیکن جب اس کی اضافت نبی اکرمﷺ کی ذات والاصفات کی جانب کی جاتی ہے تو یہ لفظ معنی و مراد کے اعتبار سے صرف حسنِ خلق تک محدود رہتا ہے اور اس کے برعکس کا شائبہ تک نہیں رہتا۔ قرآن حکیم کی یہ نص صریح اس امر کی تصدیق و تائید کرتی ہے: انک لعلی خلق عظیم۔ یعنی آپؐ عظیم خلق و کردار کے مالک ہیں۔
طاہر القادری
1975
  • جولائی
  • اگست
جب کسی جج کے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو تو وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آیا کسی نافذ شدہ قانون کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی قانون کا اطلاق ہوتا ہو۔ تو وہ قانون پر فیصلہ کر دیتا ہے۔ لیکن اگر قانون اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر جج انصاف کے اصول تلاش کرتا ہے یعنی قانون میں جو خلا ہو اس کو انصاف سے پُر کرتا ہے۔ اور کسی انصاف کے اصول کی بنا پر فیصلہ کر دیتا ہے۔
بدیع الدین راشدی
1973
  • مئی
  • جون
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہتر زندگی گزارنے کے لئے عقل و فکر اور فطری شعور بخشنے کے ساتھ ساتھ اس کے لئے خارجی رہنمائی کا بھی مکمل انتظام کیا ہے۔ اس نے انسانی رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً ایسے منفرد انسان بھیجے جو اس کا پیغام بندوں تک پہنچاتے رہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ ہر قسم کے بگاڑ کی اصلاح ان کی ذمہ داری تھی۔
خالد علوی
1973
  • مئی
  • جون
آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کرتے وقت آج کل آپ ﷺ کو مختلف حیثیتوں میں علیحدہ علیحدہ پیش کرنے کا رواج ہے۔ ان میں سے آپ ﷺ کی 'قانون ساز' ہونے کی حیثیت اہم ترین ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ ریاست و سیاست کے تین شعبوں مقنّنہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں بنیادی اہمیت مقنہ کو حاصل ہے کیونکہ انتظامی اصلاحات اور عدالتی انصاف کا پہلا مرحلہ متوازن قانون سازی ہی ہے۔
عنایت اللہ وارثی
1973
  • مئی
  • جون
حضرت محمد مصطفےٰ احمدِ مجتبیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو تاریخ کے نقطۂ نظر سے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

قبلِ بعثت : اعلانِ نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ مکی زندگی

مکّی زندگی : بعثت (نزولِ وحی) کے بعد تیرہ سالہ مکّی زندگی
نذیر احمد رحمانی
1973
  • مئی
  • جون
موجودہ حالات میں ہم قومی سطح پر جن مسائل سے دوچار ہیں اور اخلاقی لحاظ سے جس تنزل کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور سیرتِ طیبہ کی روشنی سے ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ سیرتِ طیبہ اور شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا افضل التحیۃ والسلام کو اگر آج بھی ہم اپنا رہنما بنا لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے معاشرتی، تمدنی، معاشی، سماجی، اخلاقی، سیاسی تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
چودھری عبدالحفیظ
1976
  • مارچ
  • اپریل
چھٹی صدی عیسوی کے نصف آخر میں جب دنیا روحانی و اخلاقی انحطاط کی تاریکیوں میں گھر چکی تھی اور تمام مذاہبِ عالم تنزل کی آخری منزل پر جا چکے تھے۔ تہذیبِ قدیم کی آخری کرن ٹمٹما رہی تھی۔ انسانیت، فساد و شر اور انتشار و گمراہی کے کنارے کھڑی تھی۔ پوری دنیا میں اضطرابات و فتن کا ایک طوفان برپا تھا۔ اس وقت اس تاریکی کے عالم میں ایک روشنی کا ظہور ہوا جس نے تاریکی کو دور کیا
بشریٰ انصاری
1976
  • مارچ
  • اپریل
ترقی کے اس دور میں انسان مشین کی طرح کام کرنے لگا ہے۔ ہر شخص اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں استعمال کرناچاہتا ہے جس سے اس کی زندگی خاصی مصروف ہوگئی ہے۔ دولت کی طلب، کاروبار اور نوکری کی مجبوریوں اور بہتر طرزِزندگی کے حصول کی خواہش کے پیش نظر ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کے رجحان میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
مرزا عمران حیدر
2009
  • نومبر
(پانی ایک ایسی شے ہے، جس کی سب کو ضرورت رہتی ہے اور بار بار اس کی ضرورت پڑتی ہے، اس لئے اگر اس کے استعمال میں نبوی طرزِ عمل اور ہدایات کو سامنے رکھا جائے توطبیعت کو سنتِ نبویﷺ سے ایک گونہ مناسبت حاصل ہو جاتی ہے۔

جسمانی صحت کے حصول میں مدد ملتی ہے اور بہت سے امراض سے نجات حاصل ہوتی ہے لیکن
حافظ نذر احمد
1970
  • دسمبر
آپ ﷺ کا اسم گرامی:

آنحضور ﷺ کے بہت سے اسمائے گرامی قرآن کریم و کتب حدیث میں مذکور ہیں مگر آپ ﷺ کے ذاتی نام دو ہیں۔ محمد ﷺ اور احمد اور یہ دونوں ہی آپ ﷺ کے علوئے مرتبت و عظمتِ مقام کی دلیل ہیں۔ سورۂ فتح میں آپ ﷺ کا نام محمد بتایا گیا ہے۔
عبدالرحمن کیلانی
1976
  • مارچ
  • اپریل
محمدزکریاالزکی 'علم منقولات' یعنی فن محدثین اورجدید سائنس مارچ؍اپریل 12-28
زاہدہ شبنم، پروفیسر وحی بصورتِ خواب؛مقاصداورحکمتیں مارچ؍اپریل 29-42
عبداللہ دامانوی، ڈاکٹر سلام ومصافحہ کے اَحکام ومسائل نومبر 9-30
شفیق کوکب
2009
  • دسمبر
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً ساڑھے تین ہزار برس گزر چکے تھے۔ معبدِ ابراہیمی کی چھت پر جو، کائناتِ ارضی و سماوی کے حقیقی مالک و مختار کے سامنے سر نیاز جھکانے کے لئے تعیر کیا گیا تھا، ہبل کا دیو ہیکل سنگی مجسمہ نصب تھا جو فخر و غرور کی ساکت و صامت تصویر بنا ہزارہا کے ایک بے مقصد ہجوم کو حقارت آمیز انداز سے گھور رہا تھا۔
مولا کریم بخش
1972
  • اپریل
طہارت و نظافت کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے جن چیزوں پر زور دیا ہے اور ان کی بڑی تاکید فرمائی ہے ان میں سے ایک مسواک بھی ہے۔ مسواک کے طبی فوائد سے کوئی صاحبِ شعور انکار نہیں کر سکتا۔ دینی نقطۂ نگاہ سے اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ (مسواک کرنا) اللہ تعالیٰ کو بہت راضی کرنے والا عمل ہے۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد آنحضرت ﷺ کے ترغیبی و تاکیدی ارشادات پڑھیے۔
قاری فیوض الرحمان
1971
  • جولائی
﴿''لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلوا عیہم ایاتہ و یزکیہم و یعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔''﴾ (القرآن الحکیم3: 163)

قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ: ''حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں (بلکہ جملہ انسانوں)پر بہت بڑا احسان کیا کہ ان میں ان ہی کی جنس سے ایک ایسے پیغامبر کوبھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کےنفوس کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب کاعلم دیتے ہیں اور دانائی و حکمت سکھاتے ہیں۔''
امان اللہ خاں
1978
  • مارچ
  • اپریل
یہ شعر وصفِ نبی ﷺ کے بارے میں انتہائی بلیغ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی مدحتِ رسول کا قرار واقعی حق ادا نہیں کرتا۔ کیونکہ رسالت مآب کی بہت سی خصوصیات ایسی ہیں جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پائی جاتیں اسے آپ آنحضرت کی بے مثالیت کہہ لیں یا کچھ اور نام دے دیں۔ بہرحال یہ ہیں آپ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص۔ کہیں اور آپ کو یہ کیفیت نظر نہیں آتی۔
اسرار احمد سہاروی
1973
  • مئی
  • جون