دنیا کے گلوبل ولیج بننے سے معیشت، تجارت اور معاہدات میں پیدا ہونے والی نت نئی صورتوں کی شرعی حیثیت کا جائزہ لینے، عوام الناس کو جدید معاشی مسائل سے متعلق شرعی آگاہی دینے ، خصوصاً اسلامی بینکنگ میں رائج مرابحہ ، مشارکہ اور مضاربہ وغیرہ کی شرعی حیثیت جاننے،ان مسائل کا شرعی متبادل پیش کرنے اورملکی معیشت کو شرعی خطوط پر استوار کرنے کے لئے،
عثمان صفدر
2013
  • مارچ
'زکوٰۃ' اسلام کے ارکان خمسہ میں شامل ایک اہم رکن ہے جس کا تارک و منکر بلا شبہ کافر و مرتد ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں کافر و مشرک لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ...١١﴾... سورة التوبة ''اگر وہ (کفر و شرک سے) توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تووہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔''
مبشر حسین
2003
  • نومبر
نصابِ زکوٰۃ کے حوالے سے شریعت دو پہلوؤں سے گفتگو کرتی ہے :ایک تو یہ کہ کون کون سا مال موجب ِزکوٰۃ ہے اور دوسرا یہ کہ اس مال کی کتنی مقدار پرکس قدر زکوٰۃ اداکرنا ہوگی۔ آئندہ سطور میں ان دونوں پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی جائے گی۔
مبشر حسین
2003
  • دسمبر
یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ پاکستان کے بااثر، مال دار اور فیصلہ ساز طبقے نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ معیشت و بینکاری شریعت کی روح کے مطابق نافذ ہو اور معیشت سے سود کا خاتمہ ہو کیونکہ اس سے ان کے ناجائز مفادات پر کاری ضرب پڑے گی مگر ملک کے کروڑوں افراد کی قسمت بہرحال بدل جائے گی۔
ربٰوا (سود) کا مقدمہ گزشتہ 25برسوں سے زیر سماعت ہے جہاں شرعی عدالتوں میں عالم جج بھی موجود رہے ہیں۔
شاہد حسن صدیقی
2017
  • مئی
اسلام واحد دین ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے اور اُن کے بارے میں کامل رہنمائی د ی ہے۔ دین اسلام کے سوا دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی تعلیمات کے لحاظ سے اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہو کہ اس میں روحانیت، اخلاق، معاشرت، معیشت اور سیاست سے متعلق مکمل تعلیم و رہنمائی پائی جاتی ہو۔
محمد رفیق چودھری
2007
  • دسمبر
سود کامسئلہ اس وقت ہماری سوسائٹی میں عجیب صورت اختیار کرگیا ہے، اس کی مثال سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی سی ہو کر رہ گئی ہے، نہ تو تھوکی جاسکتی ہے اور نہ نگلے ہی بن پڑتی ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کی بات ہو یا اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی تجویز، بات سود پر آکر رکتی ہے۔ اسلام اِسے حرام قرار دیتا ہے لیکن ہمارے اقتصادی نظام اور معیشت کی رگوں میں یہ زہر مسموم ایسا سرایت کرگیا ہے
ڈی ایم قریشی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
بعض اسلامی بینکوں میں تمویلی سرگر میو ں کے لئے بیع سلم کا استعمال بھی جاری ہے۔ سَلَم ایک معروف شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد لین دین اور خرید وفروخت کی وہ قسم ہے جس میں ایک شخص یہ ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ مستقبل کی فلاں تاریخ پر خریدار کو ان صفات کی حامل فلاں چیز مہیا کرے گا ۔
ذوالفقار علی
2008
  • ستمبر
حضور ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ:

آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ قابلِ ستائش اور قابلِ رشک اور آپﷺ کا ہر قول و فعل رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپ ایک ہی وقت میں ہادی بھی تھے اور مرسل بھی، غازی بھی تھے اور تاجر بھی، آپ ﷺ کی ساری زندگی اس لحاظ سے قابلِ صد افتخار ہے
محمد زکریا عمرانی
1971
  • اگست
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک کسی معاشرہ کے معاشی اور مالی معاملات مناسب اُصول و ضوابط کے پابند نہ ہو ں ، تب تک اس معاشرہ کی منصفانہ تشکیل ممکن نہیں ۔ اسلام چونکہ منصفانہ معاشرہ قائم کرنے کا داعی ہے، اس لیے اسلام نے لین دین اور تجارتی تعلقات کے متعلق نہایت عمدہ اور جامع اُصول عطا کئے ہیں جن کی روشنی میں ہم اپنی معیشت کوصحت مند بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں ۔
ذوالفقار علی
2009
  • نومبر
یہ بات تو مسلم ہے کہ بیع اسی صورت میں منعقد ہوگی جب مشتری فروخت کنندہ کو بدلے میں کوئی قیمت ا داکرے گا، اس کے بغیر بیع وجود میں نہیں آسکتی تاہم شریعت ِ مطہرہ نے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کے متعلق بھی ہماری مکمل رہنمائی کی ہے۔
1.اس سلسلہ میں پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ معاوضہ کرنسی کی شکل میں ہوناضروری نہیں بلکہ ہر اس چیز کی بنیاد پر لین دین ہو سکتاہے جو شریعت کی رو سے جائز اور معاشرہ میں بطورِ معاوضہ قبول کی جاتی ہو۔
ذوالفقار علی
2010
  • فروری
  • مارچ
5.عیب نہ چھپائیں

دین اسلام خیر خواہی کا دین ہے، اس لیے مسلمان تاجر پر لازم ہے کہ لین دین کے وقت سچائی سے کام لے اور خریدار پر حقیقت ِحال واضح کرے،مال کے نقص کو نہ چھپائے اور ملاوٹ، مکر وفریب،جھوٹ اوردھوکہ دہی سے مکمل اجتناب کرے۔
ذوالفقار علی
2010
  • جنوری
بعض اوقات انسان غور وفکر کے بغیر بیع کر لیتا ہے مگر اسے جلد ہی یہ احساس ہو جاتاہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی،یا اسے کسی ماہر سے مشورہ کرنے اور چیز کی جانچ پڑتال کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، یا بیع کی شرائط پوری نہ ہونے،یا چیزاورقیمت کے متعلق مکمل معلومات نہ ہونے، یادھوکے اور فراڈکی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑتاہے،اسلامی شریعت نے اس کا حل قانونِ خیار کی شکل میں متعارف کرایا ہے ۔خیار کا معنی ہے :
ذوالفقار علی
2010
  • اپریل
واضرب لھم مثلا رجلین جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب و حفقنھما بنخل وجعلنا بینھما ندعا۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا وفجرنا خللھما نھرا۔ وکان لہ ثمر فقال لصحاحبہ وھو یحاورہ انا اکثر منک مالاوا عزنفرا۔ ودخل جنتہ وھوظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرا منھا منقلبا۔ قال الہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلا۔
عزیز زبیدی
1976
  • ستمبر
۱۴؍ نومبر ۱۹۹۱ء کو پاکستان کی فیڈرل شریعت کورٹ نے ہر قسم کے سودی کاروبار کو حرام قرار دےکر ملکی معیشت کو اس سے جلد پاک کرنے کا تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا اور ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ءکو سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ نے بھی اس کی توثیق کی تھی لیکن ۲۴ جون ۲۰۰۲ء کو سپریم کورٹ نےUBLکی نظر ثانی کی اپیل پر اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا جہاں اب اس کیس کا از سر نو جائزہ 1لیاجارہاہے۔یہ مضمون اسی تناظر میں لکھا گیا ہے ۔
ذوالفقار علی
2013
  • دسمبر
گذشتہ دنوں جب والد ِگرامی مولانا عبد الرحمن مدنی سپریم کورٹ کے معاون کی حیثیت سے عدالت میںپیش ہوتے رہے تو سود کے بارے میں مختلف مجالس میں شرکت کاموقعہ ملا، مختلف اعتراضات اور ان کی وضاحتیں سامنے آئیں۔ محدث کے مضامین کی تیاری اور ایڈیٹنگ کے دوران بھی اس موضوع پر سوچنے کا موقعہ میسر آیا۔
حسن مدنی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
سوال: ربا کی حقیقت، تعریف اور معنویت کیا ہے؟
جواب: رِبا عربی زبان کا لفظ ہے اور قرآنِ کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتری، اضافے کے ہیں۔ لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد مطلق اضافہ اور زیادتی نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص قسم کی زیادتی ہے
صلاح الدین یوسف
1998
  • ستمبر
  • اکتوبر
سپریم کورٹ آف پاکستان (شریعت اپلیٹ بنچ)
اپیل برخلاف فیصلہ مسئلہ سود از وفاقی شرعی عدالت پاکستان مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۱ء
درخواست ڈاکٹر محمود الرحمن فیصل وغیرہ بنام سیکرٹری وزارتِ قانون، انصاف اورپارلیمانی اُمور حکومت ِپاکستان وغیرہ: ۱۱۸ مسؤل الیہان
عبد الرحمن مدنی
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
کچھ عرصہ سے بعض مالیاتی ادارے اسلامی بینکوں کی طرز پر سود ، غرراور قمار پر مشتمل انشورنس کا متبادل نظام بڑے زور وشور سے متعارف کرا رہے ہیں جس کو 'تکافل' کا نام دیا گیا ہے۔ جو ادارہ اس کا انتظام وانصرام کر تا ہے، اس کو تکافل کمپنی کہا جا تا ہے جیسے 'پاک کویت جنرل تکافل کمپنی' یا 'پاک قطر فیملی تکافل کمپنی' وغیرہ۔
ذوالفقار علی
2008
  • اگست
کاغذی کرنسی سے پیدا شدہ مسائل میں ایک اہم مسئلہ افراطِ زر (Inflation)کا بھی ہے۔ معاشی تکنیک کے حوالے سے افراطِ زر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کی جملہ وجوہات کا احاطہ کرنا یہاں مقصود نہیں، البتہ کاغذی کرنسی اور افراطِ زر کے درمیان جو لازمی تعلق ہے، اسے آئندہ سطور کے حوالے سے پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
عزیز الرحمان
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
ادارہ محدث میں مروّجہ' اسلامی بینکاری' کے شرعی جائزے کے لئے جملہ مکاتب ِفکر کے جلیل القدر علما اور بینکاری ماہرین کا ایک وسیع اوربھرپور اجلاس 20؍ جولائی 2008ء کو منعقد ہوا تھا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس اجلاس میں نمائندہ علما اور اسلامی بینکاری کے ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کردی گئی تھی جس کے بعد ازاں دفتر محدث میں باضابطہ طورپر مزید دو طویل اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔
عبدالواحد اعوان
2008
  • ستمبر
یہ امر واضح ہے کہ روپے پیسے میں اضافہ کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے اسے کسی کاروبار میں لگانا ضروری ہے۔ اگرکسی شخص کے پاس دس لاکھ روپیہ موجود ہو اور وہ اسے کسی کاروبار میں نہ لگائے تو وہ دس سال کے بعد بھی دس لاکھ ہی رہے گا ،اس کو دس لاکھ پچاس ہزار کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس سے کوئی کاروبارکیاجائے اور کسی مصرف میں لایا جائے۔
ذوالفقار علی
2013
  • مارچ
صنعتی انقلاب سے یورپ کا اقتصادی نظام جو زرعی بنیادوں پر قائم تھا، تلپٹ ہو گیا تھا۔ عقلیت پرستی اور لبرلزم کی تحریک نے یورپ کے عیسائی معاشرے کی مذہبی و اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر ڈالا۔ انقلاب فرانس نے اس کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ نظام جاگیرداری پر استوار مطلق العنان بادشاہتیں ہر جگہ ڈولنے لگیں، صنعتی انقلاب اپنے جلو میں گوناگوں خرابیاں لے کر آیا۔
آباد شاہ پوری
1971
  • ستمبر
انسان مدنی الطبع ہے جسے اپنی ضروریات کے لئے ہر آن دوسری قوتوں او رطبقات کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔ انسانی سوسائٹی کے قدیم ترین اَدوار میں بھی ضروریات کی کفالت کے لئے کوئی نہ کوئی تبادلے کا معیار یا نمونہ موجود رہا ہے ۔ جنس کے بدلے جنس اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے اس قدیم نظام کو معاشیات کی زبان میں بارٹر (Barter) کہتے ہیں۔ اَجناس اور اشیاء کے تبادلے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کا دور بہت طویل رہا ہے۔
عبدالجبار شاکر
1999
  • ستمبر
  • اکتوبر
عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قالت کما استخلف ابوبکر الصدیق قال لقد علم قومی ان حفتی لم تکن تعجز عن مؤنۃ اھلی و شغلت بامرالمسلمین فسیاکل آل ابی بکر من ھذا المال و یحترف للمسلمین فیہ (بخاری باب کسب الرجل و عملہ بیدہ)

(حضرت) عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب (حضرت ) بوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے تو فرمانے لگے کہ:
عزیز زبیدی
1976
  • ستمبر
آج کل ملک کے دینی حلقوں میں مزعومہ 'اسلامی بنکاری' پر بحث جاری ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اسلامی حوالے سے یہ بنکاری درست ہے یا نہیں ؟ اس ضمن میں سب سے پہلے تویہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 'اسلامی بنکاری' ہے کیا؟ کہ اس کے بعد ہی اس کی شرعی حیثیت کا تعین کیا جا سکے گا۔مغرب کی تہذیب آج کل دنیا میں غالب ہے۔
محمد امین
2009
  • نومبر