• جون
2002
زاہد الراشدی
اسلام میں جہاد کا تصور اور فضیلت، دیگر ادیان و مذاہب کے بالمقابل اسلام کا امتیازی تصور ہے جس کی رو سے جہاں جان و مال اور عقل و نسل کا تحفظ بنیادی حق قرار پاتا ہے، وہاں سیکولر ازم کے برعکس دین کا تحفظ بھی اسلام کی نظر میں بنیادی حقوق میں شاملہے۔ بلاشبہجہاد کا یہ تصور اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔
  • جولائی
2004
خالد علوی
اسلام ؛ دین ِامن !
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جو فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے۔ دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے، اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریے میں نہیں۔ بدقسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوںنے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے، اس مہم کا جواب ضروری ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے اور بعد اس کانفرنس سے لمبی چوڑی توقعات اور جائزے و تبصرے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اتنی کثیر تعداد میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں یانمائندہ وفود کے اسلام کے نام پر ایک جگہ جمع ہونے کو بڑی اہمیت دی گئی اور مختلف شخصیتوں، اداروں یا جماعتوں کی طرف سے زیر بحث مسائل کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کیے گئے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
محمد امین
1. میرے قدیم آبائی مذہب کے متعلق میرے شکوک اور اس مذہب کے بے دلیل عقائد نے مجھے مذہب سے بے زار کر کے دینی حدود میں دھکیل دیا تھا لیکن اسلام کی حقائق آفریں تعلیمات کی روشنی مجھے لا دینی سے سلامتی کی راہ پر لے آئی ہے۔ صمیمِ قلب کے ساتھ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اسی نے مجھے ظلمت سے نور کی طرف کھینچا اور بہیمانہ زندگی سے نکل کر حیاتِ انسانی کی آغوش میں پہنچ گیا۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
عبدالماجد دریا بادی
مہینوں کی تپش و تابش، لَو اور لپٹ، تڑاقے اور جلاپے کے بعد جب برسات کی ہوائیں چلتی ہیں تو کالے کالے بادل امنڈ امنڈ کر آتے ہیں اور جل تھل بھر جاتے ہیں۔ سالہا سال کی سختیوں اور آزمائشوں امتحانات اور ابتلآت کے بعد جب مشیتِ مطلقہ کو، اس مشیت کو جس کے اوپر کوئی مشیت نہیں منظور ہوا کہ مردہ میں جان پڑ جائے اور سوکھی ہوئی کھیتی لہلہانے لگے تو نیتوں کے رُخ پلٹ دیئے اور دلوں کی اقلیم میں انقلاب برپا کر دیا۔
  • مئی
1973
عبدالعزیز کھلنوی
اُمت مسلمہ بڑی مشقت سے بنی ہے، اس کو امت بنانے میں حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بڑی مشقتیں اُٹھائی ہیں اور اُن کے دشمنوں یہود و نصاریٰ نے ہمیشہ اس کی کوششیں کی ہیں کہ مسلمان ایک امت نہ رہیں بلکہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں۔ اب مسلمان اپنے اُمّت ہونے کی صفت کھو چکے ہیں۔ جب تک یہ اُمّت بنے ہوئے تھے چند لاکھ ساری دنیا پر بھاری تھے۔ ایک پکّا مکان نہیں تھا۔ مسجد تک پکی نہیں تھی۔
  • جولائی
2004
عبدالمحسن بن حمد العباد
کتابچہ بأي عقل ودین یکون التدمیر والتفجیر جہادًا ؟ کا ترجمہ
شیخ عبد المحسن العباد مدینہ منورہ کی بزرگ فاضل شخصیت ہیں، مدینہ یونیورسٹی کے ابتدائی دو ر سے آپ وہاں حدیث کے پروفیسر رہے ہیں اور سعودی عرب سے تعلیم یافتہ پاکستان کے اکثر اہل علم آپ کے شاگرد ہیں۔ سعودی عرب میں آپ کی شرعی راے کو بڑی وقیع حیثیت حاصل ہے
  • دسمبر
1973
محمد یوسف خان
استاد علال فاسی لکھتے ہیں کہ جب مغرب میں فرانسیسی استعمار روبہ زوال تھا تو مبشرین نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کی اور 'آزادیٔ فکر اور بحث مباحثہ'' کے مراکز قائم کئے۔ ان میں سے ایک مرکز، جس کو بڑی اہمیت اور شہرت حاصل ہوئی، وہ تھا جو رباط تیوملیلین (Monster de Toumliline) کہلاتا تھا۔ پیرس، امسٹر ڈم اور بون (جرمنی) میں انجمنیں قائم تیں، جو مذہبی فریضہ کے طور پر اس رباط کو مالی وسائل فراہم کرتی تھیں۔
  • جون
2011
عبدالمالک مجاہد
'انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈکراس' کے زیراہتمام 16 مئی2011ء کو آواری ہوٹل لاہور میں مختلف مکاتب ِفکر کے علما کا ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع 'جنگ سے متاثرین کے حقوق اور اسلامی آداب' تھا۔ سیمینار مذکور میں مدیر اعلیٰ'محدث' نے بھی 'اسلامی جہاد کے آداب' پر فاضلانہ خطاب کیا۔ زیر نظر مقالہ مولانا عبد المالک نے اسی سیمینار کی پہلی نشست میں پڑھا،
  • مئی
1972
عبدالغفار اثر
دسمبر ۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ کا المیہ وقوع پذیر ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمان جیسی عظیم، فاتح شرق و غرب اور توحید پرست قوم کے لئے یہ واقعہ ہائلہ، حادثہ جانکاہ ہے۔ لیکن جب کوئی اس کے حقیقی اسباب و علل پر غور کریگا تو اسے ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت کسی مسلمان کی شکست نہیں بلکہ یہ اسلام دشمن اور کفر پرست طاقتوں کی نئی اور پرانی چالوں پھر دین فروشوں، ملت کے غداروں اور طاغوتی ایجنٹوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے
  • اگست
1999
خرم علی بلہوری
جماعتِ مجاہدین، جسے شہیدین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ احیاءِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں آج سے 175 برس قبل منظم کیا تھا، مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس دور میں جب تختِ دہلی پر انگریز اور تحتِ لاہور پر سکھ راج کی حکومت تھی، مسلمانانِ ہند کو منظم کر کے صوبہ سرحد کو اپنا مستقر بنا کر اس تحریک کے سرفروشوں نے ایک نئی سادتانِ شجاعت رقم کی۔ 1826ء سے 1864ء تک پھیلی مجاہدین کی ان سرگرمیوں اور کامیابیوں نے امتِ مسلمہ میں ایک نئی روحِ جہاد پھونک دی۔ اس جہاد کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ مجاہدین جن کا ہندوستان بھر سے مالی اِعانت کا ایک منظم جال تھا، نے آزاد علاقوں (صوبہ سرحد کے بعض شہروں) میں اپنا ٹھکانہ بنا کر جہاد کا احیاء کیا، کیونکہ اسی صورت میں وہ جہاں غیروں کی جہادی مقاصد میں دخل اندازی سے محفوظ رہ سکتے تھے وہاں جہاد کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کر سکتے تھے ۔۔ جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی اور امتِ مسلمہ کی عزت کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ساتھ آخری دم تک جہاد بھی باقی رہے گا۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
شہنازاختر
اغیار نے ہم مسلمانوں پر جو ان گنت ''احسانات'' کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ''احسانِ عظیم'' دین اسلام کے بارے میں لوگوں کو شکوک و شبہات کے گرداب میں پھنسانا ہے۔ انہوں نے اسلام دشمنی کی زہریلی گولیوں کو شکر کی تہ چڑھا کر بڑے خوب صورت رنگوں میں یوں پیش کیا کہ نہ صرف غیر مسلم بلکہ مسلمان بھی انہیں خوشی خوشی نگل کر لڑ کھڑا گئے ہیں۔
  • دسمبر
1970
ادارہ
ووٹ کی یہ پرچی صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، آپ کا نامۂ اعمال بھی ہے۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی       دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا


گو اگلے وقتوں میں الیکشن اور انتخابات کی یہ فنی شکل مروج نہیں تھی تاہم اثرات اور عوامل جن کے ذریعے کچھ شاطر لوگ عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں، وہ تقریباً تقریباً آج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔
  • دسمبر
1970
عبدالغفار اثر
ہم ملت کے ہر درد، بہی خواہ مسلمان اور دین پسند جماعتوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں سوشلزم، ظالمانہ سرمایہ داری، غیر اسلامی نظریات اور دیگر قباحتوں کے خلا  ف اپنی سرگرمیاں مرکوز کر رہے ہیں وہاں ملک میں بڑھتی ہوئی عریانی، فحاشی، بے راہ روی، ننگے مناظر کی اعلانیہ نمائش اور شرمناک تشہیر و اشاعت کے خلاف بھی ایک متحدہ محاذ بنا کر اس کے قرار واقعی انسداد اور قلع قمع کے لئے میدان عمل میں نکل آئیں۔