• اپریل
1971
حماد بن محمد الانصاری
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ''سرمایہ داری'' اور ''اشتراکیت'' زندگی کے صرف معاشی پہلو سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان کی سماجی، سیاسی اور دینی زندگی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان دونوں نظاموں سے واقف نہیں، کیوں کہ سرمایہ داروں اور اشتراکیوں نے اپنی اپنی کتابوں اور اعلانات کے ابتدائی صفحات میں ہی ان تمام باریک نکات کو واضح کر دیا ہے
  • جنوری
  • فروری
1971
محمد حنیف
نبی ﷺ کے خطہ حجۃ الوداع اور خلفائے راشدین کے عہد کے آئینے میں

اسلام نے معاشرتی تنظیم کے لئے جو اصول وضع ہیں اصولِ مساوات ان میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسی بنیاد پر معاشرے کا باقی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا ہے اور معاشرتی قانون بنائ گئے ہیں۔
  • اگست
1972
اکرام اللہ ساجد
فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں، جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، اسی طرح معاشرہ سے افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور معاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لئے اسلام نے فرد اور معاشرہ دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔
  • اکتوبر
1971
خالد علوی
فکر و نظر کا بگاڑ:

انسانی زندگی چونکہ بنیادی طور پر نظریات پر استوار ہے، اس لئے نظریات و افکار میں بگاڑ انسان کی پوری سیرت و کردار کو متاثر کرتا ہے۔ جب ہم کسی معاشرے کا تجزیہ اس پہلو سے کرتے ہیں تو اس میں افراد کی نظریاتی و فکری کیفیتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1971
خالد علوی
معاشرہ:

معاشرہ عاشر یعاشر کا مصدر ہے۔ اس کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں۔ اصلاح کا مادہ ص۔ ل۔ ح۔ ہے عربی میں صلح صلاحاً کے معنی فساد زائل کرنا ہے۔ اصل شیئاً کے معنی اس نے کسی چیز کو درست کیا چونکہ معاشرہ کے معنی مل جل کر رہنے کے ہیں اس لئے معاشرہ سے مراد افراد کا وہ مجموعہ ہے جو باہم مل جل کر رہے۔
  • مارچ
2013
محبوب عالم فاروقی
اسلام میں مسجد کو عبادت، تعلیم و تربیت، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے مرکزی مقام حاصل رہا ہے بلکہ مسلمانوں کی تمام سرگرمیوں کا مرکز و منبع مسجد ہی تھی۔ اسلام کی تعلیم کا آغاز مسجد سے ہوا۔ پیغمبر اسلام جناب محمدﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ سے باہر مسجد کی بنیاد رکھی جو سب سے پہلی مسجد ہے اور پھر مدینہ منورہ میں دوسری 'مسجدنبوی' بنائی۔ اس میں دینی اور دنیاوی تعلیمات کی شروعات کیں۔
  • اکتوبر
2001
عبدالعزیز حنیف
حلق پھاڑ کر نعرے لگانا کتنا آسان ہے لیکن ان نعروں کے پس پردہ حقائق اور کار فرما خفیہ عزائم کا سراغ لگانا اور ان کا اِدراک کرنا بڑا مشکل ہے۔حقوقِ انسانی کا نعرہ بھی اسی طرح کا ایک دلکش، خوبصورت اور پر فریب نعرہ ہے جس کی چمک بڑی مسحور کن ہے اور جوبظاہرہر انسان کے عزت و احترام پر ابھارتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نعرہ کا علمبردار کسے ہونا چاہے؟
  • اکتوبر
2001
عبدالرحمن کیلانی
معاشرہ سے فتنہ و فساد کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام کے لئے معاشرہ کے افراد کے حقوق وفرائض کی تعیین نہایت ضروری چیز ہے، اور یہ تعیین دو طرح سے ہوتی ہے :
ایک صورت یہ ہے کہ معاشرہ کے کچھ سمجھدار لوگ اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ایسے حقوق و فرائض باہمی مشورہ سے طے کرلیتے ہیں۔
  • جنوری
  • فروری
1971
عبدالسلام کیلانی
زیرِ نظر مقالہ ''الحرکۃ السلفیۃ ودفع الشبہات عنہا'' پاک و ہند کی جماعتِ اہل حدیث کے عقیدہ، عمل اور علمی خدمات کا ایک مختصر تعارف ہے جو ''مجلس التحقیق الاسلامی'' لاہور کے فاصل رکن مولانا عبد السلام کیلانی مدنی نے جامعۃ اسلامیہ مدینہ منورۃ میں پڑھا تھا، جس سے جامعہ کے طلبہ بہت محظوظ ہوئے اور اساتذہ نے تحسین و تبریک کے کلمات کہے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
اہل حدیث  جانبازفورس ،اہل حدیث نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ جس نے چند ماہ قبل "صراط مستقیم" کے نام سے ایک ماہنامہ کراچی سے جاری کیا ہے۔اس پرچے کا ایک نمایاں پہلو،اکابرین اہل  حدیث کے انٹر ویو لے کر من وعن شائع کرنے کا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرات اہل حدیث کے لیے اپنی کمزوریوں ،خوبیوں کا ایک تعارف سامنے آرہا ہے۔اسی سلسلہ میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفار حسن مدظلہ العالی کا ایک انٹرویو"صراط مستقیم" کے د سمبر 94ءکے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔
  • جون
2015
شفیق الرحمٰن زاہد
جادو گری اور آسیب کا اثر بلاشبہ ایک شیطانی عمل ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق یہ خبیث انسانوں اور جنوں کا فعل ہے۔ تاریخی طور پر اس کفریہ فعل کا ارتکاب سب سے زیادہ یہود و نصاریٰ نے کیا ہے۔ اہل اسلام بھی اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، حالاں کہ تینوں سماوی مذاہب میں اس کی شدیدترین وعید سنائی گئی ہے۔

جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے ہر مرض کی دوا پیدا کی ہے اسی طرح اس شیطانی عمل کا علاج بھی اس نے اپنے بندوں کو سجھایا ہے۔
  • اپریل
2015
فاطمہ جلیل فلاحی
رسم ورواج سماجی زندگی کی علامت ہواکرتے ہیں اور تہذیب کے اجتماعی پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہرقوم کی انفرادی واجتماعی زندگی میں ان رسوم ورواج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور تہذیب وثقافت، اخلاق وعادات، مذہبی عقائد، ذہنی رجحانات اور طرز معاشرت پر ان کا گہرا اثر پڑتا ہے۔

''یہ رسوم درحقیقت مختلف اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں
  • مئی
  • جون
1973
ثریا بتول علوی
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
  • مارچ
2013
صلاح الدین یوسف
بارات اور جہیز کے علاوہ شادی کے رسوم ورواج میں جن فضولیات کا اہتمام ہوتا ہے، ان کی تفصیل کافی لمبی ہے اور نہایت ہوش ربا بھی۔چند سال قبل روزنامہ'جنگ ' کے ایک فیچر نگار نے ان تفصیلات پر مبنی ایک مفصل فیچر لکھا تھا جو راقم کی کتاب 'مسنون نکاح' مطبوعہ دارالسلام میں درج ہے ۔ قارئین اس کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
  • ستمبر
2012
شیخ صالح العثیمین
موجودہ دور مغربی فکر وفلسفہ اور مادی نظاموں کے غلبے کا دور ہے۔ مغرب کی موجودہ فکر نے اِنسانیت پر صرف اپنے گہرے اَثرات ہی نہیں مرتب کیے بلکہ حیاتِ انسانی کو اپنے مطلوبہ سانچوں کے مطابق ڈھالا بھی ہے جس کی وجہ سے اَقدار و روایات کا مضبوط نظام تہہ وبالا ہو کر رہ گیا ہے۔ اِنسانیت بڑی سخت معنوی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ان کٹھن اور تلخ حالات نے سب سے زیادہ مسائل ہمارے مسلم نوجوانوں کے لئے پیدا کئے ہیں
  • مئی
2000
حافظ محمد ایوب
روزنامہ جنگ لاہور مؤرخہ 6/مارچ 1998ء کے شمار ے میں بی بی سی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔جس کی شہ سرخیاں درج ذیل ہیں ۔
1۔ٹھنڈےدل سے غور کریں ۔۔۔۔پاکستانی معاشرہ کس طرف جارہا ہے؟
2۔مسائل نے پاکستانیوں کو چڑچڑا بنادیا کوئی کسی کو برداشت نہیں کرتا؟
3۔انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں دوسروں پرغصہ نکالنے اور توہین کرنے کا رجحان ہے۔ فرقہ واریت اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اس بیماری کی علامتیں ہیں ۔
4۔جب رواداری ختم ہو جا ئے تو معاشرہ ایک بے ربط ہجوم میں بدل جاتا ہے اور معاملہ آنکھ کے بدلے آنکھ کی بجائے ناک تک جاپہنچتا ہے۔
ان سرخیوں کے ذیل میں لاہور (مانیٹرنگ سیل) یہ رپورٹ پیش کرتا ہے۔
  • اپریل
2015
محمد نعمان فاروقی
'فتنہ 'کہنے کو تو ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اپنے اثرات اور مفہوم کے اعتبار سے بہت گہرا ہے۔ فتنہ گھر بار اور اہل و عیال میں بھی ہو سکتا ہے،ملک اور روئے زمین پر بھی۔ اس لیے اس کے مفہوم کو جاننا، اس کی وسعت کو سمجھنا اور اس سے بچنے کی تدابیر کرنا اور فتنہ آ جانے کی صورت میں محتاط طرزِ عمل اپنانا انتہائی ضروری ہے۔

'فتنہ' لغت کے آئینے میں
  • فروری
2014
محمود اختر
بد امنی اور فساد خاندانوں، معاشروں اور ممالک کو تباہی وبربادی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ فساد کی صورت میں معاشرتی، معاشی اور سیاسی امن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ بد امنی کی فضا میں علوم وفنون کی ترقی رک جاتی ہےاور صنعتی ترقی کے لیے فضاسازگار نہیں رہتی۔ بلند تراقدار پنپ نہیں سکتیں اور معاشرے کا ہر فرد مستقل طور پر خوف وہراس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر افراد زیادہ دیر تک خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا رہیں تو ان کی صلاحیتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
  • جون
1999
حسن مدنی
نکاح میں والدین کا کردار اور اولاد کے فرائض

حالیہ چند دنوں بعض اسلام بیزار خواتین کے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خاندانی نظام پر حملہ کرنے کی مذموم کوششوں کے بعد مسئلہ نکاح کے اسلامی احکام نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے مسلسل فیصلہ جات نے بھی اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے ۔۔ اس خاص مرحلہ پر چند مخصوص احکامِ اسلامیہ کی بجائے بیسیوں ایسے عوام اور رویے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جن میں اسلامی دلایت عامہ و خاصہ کا تصور، حضانت و کفالت کے مسائل، صلہ رحمی اور اطاعتِ والدین کے احکام، اولی الامر کی ذمہ داریاں اور اولاد کے فرائض کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشروں میں صدیوں سے چلے آنے والی قدروں کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔
  • دسمبر
2008
محبوب عالم فاروقی
رمضان المبارک کی بابرکت اور پُررحمت ستائیسویں رات کی گھڑیوں میں مسلمان اپنے ربّ کی رحمتوں ، مغفرتوں اور برکتوں کو سمیٹ رہے تھے کہ انہی لمحات میں سرگودھا کے بدبخت نے اپنے باپ کوعید کی خریداری کے لیے پیسے نہ ملنے پر قتل کردیا۔اسی طرح عید کے آٹھ روز بعد کراچی کے پوش علاقہ گلبرگ میں اعتزاز شاہ نامی شخص نے اپنے والدین ،بہن اور بھانجے کوموت کے گھاٹ اُتار دیا۔
  • فروری
2001
عبدالرزاق عفیف
آج دنیا میں جگہ جگہ گانے بجانے کا شوروغل برپاہے۔ شہر،بازار،گلی کوچے اس ہڑبونگ سے دوچار ہیں۔ ناچنے ،گانے والے اور میراثی اب گلوکار، ادکار،موسیقار اور فنکار کہلاتے اورفلمی سٹار، فلمی ہیرو جیسے دل فریب مہذب ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔مردوزَن کی مخلوط محفلوں کا انعقاد عروج پر ہے۔ بڑے بڑے شادی ہال، کلب،بازار، انٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر اہم مقامات ا ن بیہودہ کاموں کے لئے بک کر دیئے جاتے ہیں