• ستمبر
2003
ریاض الحسن نوری
تخلیق کائنات کے مقاصد کی حقیقت کے بارے میں اللہ جل جلالہ کا وعدہ ہے ﴿سَنُر‌يهِم ءايـٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ...٥٣﴾... سورة فصلت''ہم انسانوں کو انفس وآفاق میں ایسی نشانیاں برابر دکھاتے رہیں گے، جو اللہ کے حق ہونے کو ثابت کریں گی۔'' جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے استعمال کا نام ہے، اس لئے اس کا دائرہ کار محدود ہے،
  • مئی
1999
حسن مدنی
((زیر نظر موضوع جو اصلاً تو"اسلامی علم و تحقیق میں کمپیوٹر کے استعمال"کےموضوع پر روشنی ڈالنے کے لیے شروع کیا گیا،اس مرحلے تک پہنچتے پہنچتے قدرے وسیع دائرہ کار میں مختلف دیگر اعتبار سے بھی کمپیوٹر کے استعمالات کو حاوی ہوگیا ہے۔چونکہ محدث کا مخصوص قاری کمپیوٹر کے بارے میں خاطرخواہ معلومات نہیں رکھتا چنانچہ کسی حوالےسے بات شروع کرنے سے قبل اس موضوع کے مجموعی خاکے کی وضاحت بھی ضروری ہوجاتی ہے۔یہی صورتحال آپ درج ذیل مضمون میں بھی محسوس کریں گے کہ بعض اوقات اپنے موضوع کے تقاضے پورے کرتے ہوئےبات قدرے وسعت اختیار کرجاتی ہے۔لیکن اس کے باوجود مضمون کی افادیت متاثر نہیں ہوئی۔اور پڑھنے لکھنے والے حلقوں کو کمپیوٹر سے آشنا کروانے اور اس کے حیرت انگیز استعمالات سے روشناس کروانے میں یہ ایک اچھی کاوش ہے۔۔۔اس سلسلہ کی ابتداء میں ہی اس تکنیکی پہلو کی ضرورت کو پیش کردیا گیا تھا۔
  • مارچ
2013
طالب ہاشمی
روزمرّہ گفتگو میں ہم کہتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا یا فلاں کام کو میرا جی چاہ رہا ہے۔ شروع سے مختلف تہذیبوں میں انسان کا یہی طرزِ تکلم چلا آرہا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کے متعدد فرامین اسی سیاق میں موجود ہیں مثلاً سورة الحج میں ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجاتیں بلکہ وہ دل (بصیرت سے) اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ ایک اور مقام پر یوں ہے
  • جنوری
2012
شبیر احمد منصوری

اس کائنات میں سب سے بڑی حقیقت اور خالق کائنات کا شاہکار خود انسان کا اپنا وجود ہے جو اپنے جسم و جثّہ کے اعتبار سے گو بہت بڑا نہیں مگر اس کی ساخت پر غور کیجئے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس جیسی یا اس کے قریب کوئی مشین آج تک کوئی بنا سکا ، نہ بنا سکے گا۔ پھر اربوں انسانوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی بالکل کاپی نہیں ہوتا۔

  • جنوری
2003
نثار احمد

عمل تخلیق (Reproduction) کے دو طریقے ہیں؛ ایک فطری اور دوسرا سائنسی (ٹیسٹ ٹیوب بے بی؍ سروگیٹ مدر اور کلوننگ): فطری طریقہ تخلیق میں نرو مادّہ کے نطفوں کے ملاپ کے بعد تخلیق کا عمل شروع ہوجاتا ہے جبکہ سائنسی طریقہ تخلیق میں نرومادہ کے نطفوں کو رحم سے باہر مصنوعی طریقے سے ملا کر بعد میں رحم میں ڈال دیا جاتاہے۔

  • اپریل
2006
باسم ادریس
کائنات کے سربستہ رازوں کی تہیں جوں جوں کھلتی جارہی ہیں، توں توں انسان کی حیرتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ نہ صر ف یہ، بلکہ سائنسی انکشافات انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و مطلق العنانی کا بھی قائل کرتے جا رہے ہیں اور ان سے قرآنی پیش گوئیوں کی تصدیق بھی ہوتی جارہی ہے۔ نیز اس طرح دین اسلام کی صداقت اور ہمہ گیریت بھی ثابت ہورہی ہے۔
  • اپریل
1971
اختر راہی
ریاضی غالباً تاریخ انسانیت کا قدیم ترین علم ہے۔ جوں ہی انسان نے شہری زندگی اختیار کی۔ ناپ تول اور پیمائش کے لئے چند واضح اصولوں کی ضرورت نے ریاضی کی داغ بیل ڈال دی۔ تاریخ کے ساتھ ساتھ اس سرمائے میں اضافہ ہوتا رہا۔ ہر قوم نے اپنے دورِ عروج میں ریاضی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔
  • مارچ
1999
حسن مدنی
گذشتہ دنوں اعلیٰ تعلیم کے چند طلبہ نے اس بارے میں استفسار کیا کہ کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ دیگر اشیاء سے کس طرح علم و تحقیق کے عمل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں دیندار طبقہ کے کمپیوٹر سے مستفید ہونے کے کیا امکانات ہیں، اس استفادے کی حدود کیا ہو سکتی ہیں اور کس طرح ان کا حصول ممکن ہے۔ اسی ضمن میں انترنیٹ کا تذکرہ بھی آیا جس کی حیران کن کارکردگی ہر کسی کی زبان پر ہے۔ طلبہ کے استفسار اور دلچسپی کی وجہ غالبا اپنی اعلیٰ تعلیم میں پیش آمدہ اس موضوع پر ٹھوس اور حقائق پر مبنی مواد پیش کر دینے کی حد تک تھی، جس کی رہنمائی انہیں اپنی درسی کتب اور امدادی مواد میں میسر نہ آ سکی۔ راقم الحروف یوں تو عرصہ سے اس موضوع پر لکھنے کا خواہاں تھا کیونکہ واقعتا یہ ایسی معلومت ہیں جن سے ناواقف رہ کر موجودہ دور میں مؤثر کارکردگی پیش نہیں کی جا سکتی۔لیکن طلبہ کے ان سوالات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اولین فرصت میں اِس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالوں جو ملتِ اسلامیہ کے لیے عموما اور دین دار کے لئے خصوصا مفید ثابت ہوں۔ موضوع پر بات شروع کرنے سے قبل چند ایک امور کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
  • جنوری
  • فروری
1976
سید مہر حسین بخاری
قرآن حکیم انسان کےلیے مکمل ہدایت ربانی ہونے کی وجہ سے اس کی اخلاقی دردحانی ترقیوں کا ضامن ہے اور بلاشبہ اس کی جملہ مادی اور جسمانی ضرورتوں کا کفیل بھی اس لیے یہ کہنا بجا ہےکہ اگرچہ سائنس میں قرآن نہیں لیکن قرآن میں سائنس ضرور موجود ہے کیونکہ موجودہ سائنس نےمادہ کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غوروفکر کرکے ظاہری طور پر خیرت انگیز ترقی کی ہےلیکن اس کےگمراہ کن نظریات نےروحانی اور اخلاقی انحطاط کی پریشان کن صورت حال پیدا کررہی ہے
  • جولائی
  • اگست
1974
ایم- ایم- اے
موجودہ زمانے کو سائنس کا زمانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس صدی میں سائنس کے جو حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ان سے حضرت انسان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی ہیں۔ سائنس کی یہ ترقی ذہین اور زرخیز دماغوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ لوگ علم و دانش میں اپنی مثال آپ تھے لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کی جانے والی یہ کوششیں ایک دن انسانیت کے لئے وبال جان بھی بن جائیں گی۔
  • اپریل
2003
عزیز الرحمان
انسانی زندگی کے کچھ خواص ہیں، اور ان خواص کے اعتبار سے کچھ لوازم بھی۔ انسانی زندگی کا مادّی وجود جہاں اس سے بہت سی چیزوں کا تقاضا کرتا ہے، اسی طرح اس کا ایک روحانی وجود بھی ہے، جو اس سے 'مذہب' مانگتا ہے۔ انسان مادّی اعتبار سے خواہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہوجائے، اس کا روحانی وجود اسے سکونِ قلب کی طلب پیدا کرکے، اسے اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے۔
  • جون
2010
آباد شاہ پوری
ہمارا دور ابھی تک زمانۂ سائنس کی جمع کا دور ہے اور جوں جوں اُجالا بڑھتا جارہا ہے توں توں ایک ذہین خالق کے دست ِ قدرت کی نیرنگیوں کا زیادہ سے زیادہ انکشاف ہوتا جارہا ہے۔ ڈارون سے ۹۰برس بعد ہم حیرت انگیز انکشافات کرچکے ہیں۔ سائنس کی عاجزانہ اسپرٹ اور علم کی چکی میں پسے ہوئے ایمان کے ساتھ ہم اللہ کی معرفت کے مقام کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
  • اگست
2010
محمد عمران صدیقی

اِسلامی علمیت کابنیادی ماخذ وحی الٰہی یعنی قرآن و حدیث ہے اور 'جاہلیت ِجدیدہ' یعنی تہذیب ِ مغرب کی علمیت کا ماخذ 'وحی بیزار عقل' اور 'مذہب دشمن جذبات' ہیں۔ اس 'وحی بیزار عقل' اور ' مذہب دشمن جذبات 'نے جس علمیت کو جنم دیا، وہ 'جدید سائنس' (نیچرل وسوشل) کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔

  • جنوری
2003
حسن مدنی
سادہ الفاظ میں انسانی کلوننگ سے مراد ایسا عمل ہے جس کے ذریعے مردانہ کرمِ منی اور نسوانی بیضہ کے فطری ملاپ کے بغیر خلیاتی سطح پر سائنسی عمل کے ذریعے سلسلہ تناسل جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ا س میں نسوانی بیضہ کے خلیہ کا کسی بھی دوسرے جنسی یا غیر جنسی خلیہ سے اس طرح ملاپ کروایا جاتاہے کہ نسوانی بیضہ کے خلیہ 'الف' کا مرکزہ نکال کرضائع کردیا جاتا ہے
  • اگست
1999
حسن مدنی
محدث کے گذشتہ شماروں میں راقم نے کمپیوٹر کے حوالے سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بارے میں قارئین سے آراء طلب کی گئی تھیں کہ آیا اِن مخصوص نوعیت کے مضامین کو جاری رکھا جائے یا نہیں۔ یہ امر میرے لئے باعثِ مسرت ہے کہ صرف دو مضامین کی اشاعت پر جس کثرت سے قارئین نے اپنا رد عمل ریکارڈ کرایا، اس سے قارئین کی اس موضوع سے دلچسپی کھل کر سامنے آ گئی۔ مختلف علمی و تحقیقی اداروں سے ان شمارہ جات کی اس قدر زیادہ طلب رہی کہ اب یہ شمارے ادارہ کے ریکارڈ میں بھی تقریبا ناپید ہو چکے ہیں۔ بہرحال یہ ہمارے قارئین کی علمی دوستی اور اس رجحان کی ایک طرح ترجمانی ہے کہ اسلام اور علم و تحقیق سے وابستہ حضرات ایسے موضوعات سے غافل نہیں بلکہ وہ کچھ جاننا چاہتے اور ان جدید وسائل علم سے استفادہ کرنے کے شدید خواہش مند ہیں۔