• مارچ
1982
اکرام اللہ ساجد
موجودہ دور میں مال و دلت، ساز و سامان اور منفعتِ دنیوی کے حصول کے لیے دوڑ جس شدت سے جاری ہے۔ بعض دفعہ اس کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی بہت ہی قیمتی متاع لوگوں سے چھن گئی ہے، جس کے تعاقب میں یہ ہر ممکن تیزی کے ساتھ روانہ ہو کر اسے حاصل کر لینا چاہتے ہیں ۔۔۔ یا کوئی انتہائی خوفناک بلا خود ان کے تعاقب میں ہے، جس سے یہ جتنی جلد ممکن ہو سکے دور اور دور نکل جانا چاہتے ہیں ۔
  • مارچ
1983
محمد بن اسماعیل
جب آپ نے ان قواعد اور اصولوں کو پہچان لیا تو آپ یہ بھی جان لیں کہ اللہ نے عبادت کو کئی اقسام میں منقسم فرمایا ہے ۔کچھ ان میں اعتقادی ہیں جو دین کی بنیاد ہیں ۔مثلاً اس بات کا اعتقاد رکھے کہ وہ یقینی طور پر اس کا رب ہے۔ پیدائش اور امر کےمعاملہ پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔نفع و نقصان پر اسے مکمل دسترس ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کسی کو سفارش کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
  • اپریل
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا یہ لوگ جو اولیاء کی قبور اور فاسق لوگوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مشرک ہیں جیسے بتوں کے متعلق عقیدہ رکھنے والے تھے؟جواب: تو ميں کہتا ہوں ہاں۔کیونکہ ان لوگوں نے بھی ایسے کام کیے جو ان لوگوں نے کیے او ریہ امور شرکیہ میں ان کے برابرہوگئے۔بلکہ ایسا فاسد عقیدہ رکھنے او ران کے مطیع ہونے او رعبادت کرنے میں ان سے بھی چند قدم اگے نکل گئے، تو ان میں کوئی 
  • جون
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ جو اہل قبور اور دیگرایسے لوگوں ، جو زندہ فاسق و فاجر او رجاہل ہیں، کے متعلق حسن عقیدت رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے، ہم تو صرف اللہ کی عبادت کرتےہیں، ہم ان کی خاطر نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، نہ حج کرتے ہیں، ہم یہ تمام امور اللہ کے لیے کرتے ہیں؟جواب: تو میں کہتا ہوں ، یہ عبادت کے مفہوم سے عدم واقفیت او رجہالت ہے کیونکہ میں نے جوذکیا ہے، یہ اس
  • جولائی
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے یہ لازم آتا ہےکہ تمام امت گمراہی پرمتفق ہوگئی کیونکہ وہ اس کو بُرا کہنے سے خاموش رہے؟ جواب: اجماع کی حقیقت یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کے عہد مسعود کے بعد امت محمدیہ کے مجتہدوں کا کسی مسئلہ میں متفق ہونا ہے اور مذاہب کے فقہاء ائمہ اربعہ کے بعد اجتہاد کو محال تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی یہ بات غلط اور باطل ہے او رایسی بات وہی کہتا ہے جو حقائق سے بے خبر ہوتا ہے تاہم ان
  • نومبر
  • دسمبر
1979
عزیز زبیدی
اصلی کمی : دنیا میں کمی مخلص کارکنوں اور اچھی تحریکوں کی نہیں ہے۔چپہ چپہ پرآپ کو ملیں گی اور ہر سر اس کا سودائی نظر آئے گا۔ ہاں کمی اگر ہے تو ''کار خیر'' شروع کرکے اس کو نباہ دینے کی ہے۔لوگ عموماً بڑی گرمجوشی ،ولولہ آتشیں اور بے قابو جذبہ نیک کے ساتھ طوفان بن کر ابھرتے ہیں مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ، وہ ابھر کر جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔
  • دسمبر
1981
اکرام اللہ ساجد
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے تینتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ۔۔۔ اس دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف نظامہائے حکومت آزمائے گئے، لیکن نہ تو کسی حکومت کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی یہاں کوئی طرزِ حکومت کامیاب ہو سکا، بلکہ نت نئے تجربوں نے خود ملک کی سلامتی ہی کو داؤ پر لگا دیا ۔۔۔ چنانچہ جو لوگ 14 اگست سئہ 1947ء کو نقشہ دُنیا پر ایک نئی اسلامی مملکت کے وجود سے آشنا ہوئے تھے،
  • فروری
2009
ارشاد الحق اثری
وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاہے کہ 'ولاء' کے اصل معنی ''دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ '' (المفردات،ص555)
  • اپریل
2014
حسن مدنی
اسلام اللّٰہ کی 'اطاعتِ کاملہ' بجا لانے کا نام ہے۔ اللّٰہ کی یہ بندگی(عبادت وعبدیت ) دیگر مذاہب کی طرح محض پوجا پاٹ کا تصور نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے؛ شخصی وانفرادی یا اجتماعی وملّی ہر میدان میں اللّٰہ کے احکام و ہدایات پر چلنے کا نام ہے۔ انبیا کا مقصدِ بعثت یہی رہا ہے کہ لوگوں کو اللّٰہ کی طرف بلائیں اور جو اللّٰہ تعالےٰ نے نازل کیا ہے، اس کی لوگوں کو تلقین وتعلیم کریں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ہے :
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
1۔ یقول محمد بن قیس سمعت عائشہ تقول الااحدثکم عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہوسلم وعنی قلنابلیٰ قالت لما کانت لیلتی انقلب فوضع نعلیہ عند رجیلم ووضع ردآءہ و بسطرا زار علی فراشہ ولم یلبث الاریثما ظن انی قد رقدت ثم انتعل رویدا واخذ رداء ہ رویدا ثم فتح الباب رویدا و خرج واجافہ رویدا وجعلت درعی فی راسی فاختموت و تقنعت ازادی و انطلقت فیاثرہ حتی جآء البقیع فوخع یدیہ ثلث مرات و اطلا القیام
  • جنوری
2004
اختر حسین عزمی
قرآن نے حب ِ الٰہی کو مؤمن کی پہچان اور ایمان کی جان قرار دیا ہے: {وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا ﷲِ} (البقرۃ:125) قرآن میں حب ِ الٰہی کا یہ غیر معمولی مقام اس دلیل کی مضبوطی کا باعث ہے کہ قرآن کا بنیادی تصورِ تزکیہ اللہ کی محبت ہی ہے، نہ کہ اس کی والہانہ اطاعت۔ یہ اطاعت تو اس محبت کا صرف لازمی ثمرہ ہوگی۔
  • مئی
1990
عبدالرحمن مدنی
(((مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی جو جامعہ  لاہور اسلامیہ (رحمانیہ) کے مہتمم بھی ہیں۔جامعہ کے ایک شعبہ کلیۃ الشریعۃ 91 بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں باقاعدہ ہر جمعہ خطبہ ارشا د فرماتے ہیں۔خطبہ ء جمعہ موقع کی مناسبت سے کسی دینی اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر ہونے کے علاوہ ملک وملت کے درپیش اہم علمی اور قانونی مسائل پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ جن میں موصوف سامعین کی لمحہ بہ لمحہ حاضری بڑھنے کا لحاظ رکھتے ہوئے خطبہ کا ابتدائی حصہ عمومی رکھتے ہیں جس میں طلباء اور دین سے گہرا تعلق والے حضرات جو خطبہ شروع   ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ خطبہ کا آخری حصہ اگرچہ اسی عمومی موضوع سے یک گونہ متعلق ہوتا ہے۔لیکن موصوف اس میں ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہیں۔لہذا اس  طرح آپ کا خطاب جامعیت کا حاصل ھوکر علمی رہنمائی اور اصلاحی وعظ کا کام کرتا ہے۔
  • فروری
2011
اوریا مقبول جان
اس ملک کے تھانوں میں روزانہ ایسی ہزاروں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں جن میں مقتول کے ورثا کتنے بے گنا ہوں کانام درج کرواتے ہیں، اُنہیں قتل میں ملوث کرتے ہیں، ان کے خلاف موقع کے جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں ۔ ملک کے مہنگے ترین وکیلوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ ہو سکتا ہے ، ان میں ایسے وکیل بھی شامل ہوں جو انسانی حقوق کے علمبردار بھی ہوں ۔
  • جولائی
1982
ناصر الدین البانی
سید قطب طانقطہ نظر:

اخیر میں اسلامی دعوت کےبعض علمبرداروں کواس مسئلہ میں تنبیہ ہوا وہ ہیں استاذ کبیر سید قطب ﷫ موصوف نےجیل میں قرآنی فرید(1) یعنی ایک بےنظیر قرآنی گروہ کےزیر عنوان یہ بتلانے کی بعد کہ اس قرآن کی دعوت نےپوری اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ میں ایک ایسی بےنظیر اورممتاز نسل کوتیار کیا ہے
  • مارچ
2004
عبدالصمد رفیقی
'نبوت و رسالت' بڑا اہم، نازک اور عالی شان منصب ہے۔ اس منصب کے تین خاصے وحی ٴہدایت، معصومیت اور واجب الاتباع ہونے پر سطورِ ذیل میں ہم گزارشات پیش کرتے ہیں :
ان پہلووں کا آپس میں گہراربط ہے کیونکہ ایک نبی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ٴہدایت آتی ہے
  • مارچ
1972
عبدالمنان راز
''تاریخ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرے گی جن کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے نتیجہ میں برصغیر میں بد امنی اور انتشار پھیلا۔ ہزاروں لوگوں کو طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اپنے گھر بار، اپنی املاک، غرض کہ ہر چیز کو خیر باد کہنا پڑا۔ نہتے عوام کو جس منظم طریق سے قتل کیا جا رہا ہے
  • فروری
1978
ادارہ
مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی ہے یا نہیں، یہاں بھی او روہاں بھی؟ زندگی کے جتنے شئون اور احوال و ظروف ہیں، وہ دینی ہوں یادنیوی ، معاشرتی ہوں یامعاشی، سیاسی ہوں یا اخلاقی، روحانی ہوں یا مادی ، ان سب پہلوؤں اور صورتوں میں وہی ذات یکتا اور داتا ہمیں بس کرتی ہے۔ یا دنیائے ہست و بود میں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے
  • جون
2013
عبداللہ طارق
شرک سب سے بڑا گناہ ہے، اور انبیا کی دعوت کا مرکزی اور اساسی نکتہ توحید رہا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے پتہ چلتا ہے۔ پاکستان بھر بالخصوص پنجاب کے بڑے شہروں میں شرک وبدعت کے اندھیرے مزید گہرے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ منبرومحراب پر بعض شخصیات نے چند سالوں سے شرک کے خاتمہ کی جدوجہد کی بجائے، نت نئے بہانوں سے اسے تحفظ دینے اور اس کے لئے عوامی جلسے منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
  • جون
1978
عزیز زبیدی
عَنْ سَمُرَة بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا صَلّٰی صَلوٰة اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِهٖ فَقَالَ مَنْ رَأیَ مِنْکُمْ الَّلیْلَة رُؤْیَا قَالَ فَاِنْ رَّاٰی اَحَدٌ قَصَّھَا فَیَقُوْلُ مَا شَآءَ اللّٰه فَسَاَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ ھَلْ رَّاٰی مِنْکُمْ اَحْدٌ رُؤْیَا قُلْنَا لَا۔

قَالَ النَّبِیُّ: رَاَیْتُ اللَّیْلَة رَجُلَیْنِ اَتِیَانِیْ فَاخَذَا بِیَدَیَّ فَاَکْرَجَانِیْ اِلَی اَرْضٍ مُّقَدَّسَة فَاِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَّرَجُلٌ قَآئِمٌ بِیَدِهٖ...... کُلُّوْبٌ مِّنْ حَدِیْدٍ یُّدْخِلُه فِیْ شِدْقِهٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاه ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِه الْاٰخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَئِمُ شِدْقُه ھٰذَا فَیَعُوْدُ فَیَصْنَعُ مِثْلَه فَقُلْتُ مَا ھٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْ.
  • اپریل
1972
عبدالمنان راز
بے شک آنحضرت ﷺ سے پہلے انسان خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت سے آشنا تھا مگر اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھا کہ اس فلسفیانہ حقیقت کا انسانی اخلاقیات سے کیا تعلق ہے۔ بلاشبہ انسان کو اخلاق کے عمدہ اصولوں سے آگاہی حاصل تھی مگر اسے واضح طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں میں ان اخلاقی اصولوں کی عملی ترجمانی کس طرح ہونی چاہئے۔
  • مئی
  • جون
1974
ادارہ
بروایت ابو داؤدؒ اور دارمیؒ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ «اکمل المومنین ایمانا احسنھم خُلقًا» یعنی کامل ترین مومن خلیق ترین شخص ہوتا ہے۔

صاحب جوامع الکلم رسول خدا ﷺ کے اس فرمان کی حقیقت تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ایمان و اخلاق کا اصلی مفہوم ذہن نشین کیا جائے پھر ایمان و اخلاق کا باہمی رشتہ سمجھا جائے۔
  • جون
1989
ادارہ
(زیر نظر مقالہ مدیر"محدث" حافظ عبدالرحمٰن مدنی کی کلیۃ الشریعۃ (جامعہ لاہور اسلامیہ) کے ہفتہ وار اجتماع میں کی گئی ایک تقریر ہے۔جس میں گزشتہ دنوں "محدث" میں شائع شدہ "دین میں بدعات" کے موضوع پر مسئلہ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کی گئی تھی ۔موجودہ شکل میں اسے ٹیپ سے منتقل کرکے ھدیہ قارئین کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
  • اپریل
2011
محمد زبیر
گذشتہ شمارۂ 'محدث'میں 'قرآن اکیڈمی' لاہور کے محقق حافظ محمد زبیر کا وفاق المدارس العربیہ، پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خاں کی طرف سے سلفی حضرات پر تنقید کے جواب میں ایک وضاحتی مقالہ بعنوان 'کیا اَئمہ اربعہ مفوضہ تھے؟' شائع ہوا ہے جس میں ایک جگہ کتابت کی غلطی سے مولانا عبد الحی لکھنوی اور مولانا سلیم اللہ خاں کا حوالہ خلط ملط ہو گیا ہے۔
  • اگست
1971
سیف الرحمن الفلاح
صرف ذاتِ الٰہی ہی وہ ذات ہے جو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ اس کی ذات میں عیب جوئی کفر اور الحاد کے مترادف ہے۔ اس کی مخلوق خواہ نبی ہوں یا ولی، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہوں یا اس کے پاکباز بندے سبھی اپنی ہفوات اور لغزشوں کے معترف ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مومن سے گناہ سرزد نہیں ہوتے، بلکہ فرمایا:
  • ستمبر
1971
سیف الرحمن الفلاح
حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ پھر کسی اور عورت سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ خیال اور ارادہ ناگوار گزرا۔ اس کا امتحان لینے اور اس غلطی کا احساس دلانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے انسانی شکل و شباہت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اپنا کیس حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک نے کہا: