• اکتوبر
1992
رمضان سلفی
بعض لوگ یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری ہے۔لیکن بقول ان کے حدیث قرآن کریم کی طرح قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے۔جس میں محدثین کی امکانی کوشش بھی داخل ہے۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بات کی نسبت کی تحقیق کرتے ہیں۔اور سلسلہ سند کے اشخاص نیز محدثین خطا سے پاک نہیں ہیں۔اور ہوسکتا ہے انہوں نے حدیث کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہو۔لہذا حدیث،قرآن مجید کی طرح قطعی نہیں ہوسکتی۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
ابو الاعلیٰ مودودی
ذیل میں جسٹس ایس اے رحمن کے ایک خط پرمولانا کا تبصرہ شائع کیاجارہا ہے۔ یہ خط اس مراسلت کا ایک حصہ ہے جو 'ترجمان القرآن' کے صفحات میں موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی کے درمیان ہوئی تھی۔ ادارہ
جسٹس ایس اے رحمن اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
  • جنوری
1995
غازی عزیر
مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہو نے والا اُردو ماہنا مہ "تہذیب الاخلاق "مجریہ ماہ مئی 1988ء را قم کے پیش نظر ہے ۔شمار ہ ہذا میں جنا ب مولوی شبیر احمد خاں غوری صاحب (سابق رجسٹر ارامتحانات و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد یو ،پی) کا ایک اہم مضمون زیر عنوان "اسلام اور سائنس "شائع ہوا ہے آں موصوف کی شخصیت بر صغیر کے اہل علم طبقہ میں خاصی معروف ہے آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسا ئل و جرا ئد کی زینت بنتے رہتے ہیں آں محترم نے پیش نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی "ضعیف " اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلا ف ہے چنانچہ رقم طراز ہیں ۔
  • اکتوبر
1988
حافظ ابن رجب
(قسط 2)

شرف و عزت سے محبت کی آفات میں سے ایک، عہدوں کی طلب اور ان لا لالچ بھی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ باب ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت سے سرشار لوگ ہی جان سکتے ہیں، اور جس کی مخالفت ایسے جاہل لوگ ہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی معرفت رکھنے والوں کے ہاں حقیر و ذلیل ہیں۔
  • دسمبر
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
تحریر: حافظ ابن رجب              

آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
  • مارچ
  • اپریل
1979
ناصر الدین البانی
اس کتاب کا جب ساتواں ایڈیشن ختم ہوگیا او رکتاب کے طبع کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیاتو میں نے ضروری سمجھا کہ اصرار کرنے والوں کی خواہش کا احترام کیا جائے چنانچہ کتاب کا آٹھواں ایڈیشن قارئین کی خدمت میں پیش کرنے پر مسرت محسوس کررہا ہوں اور پُرامید ہوں کہ اس کے محتویات سے تمام عالم اسلام کو مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔
  • مارچ
2008
حسن مدنی
ان دنوں اہانت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر یہ 'حق' چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دنیا کی مقدس ومتبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبویؐ میں توہین رسالت کرنے والوں کے واقعات درج ہیں
  • جولائی
2006
محمد اسلم صدیق
ماہنامہ 'محدث' کے فروری 2004ء کے شمارہ میں محترمہ خالدہ امجد کا مضمون 'عائشہ صدیقہؓ اُسوۂ حسنہ' کے صفحہ63، سطر 11 پر یہ عبارت ''پاک و طاہر بیٹی کا نصیب صاحب ِلولاک کا نور کدہ ہی ہوسکتا ہے۔'' میں لفظ لَوْلَاکَجو ایک موضوع روایت کاجملہ ہے، غلطی سے نظر انداز ہوگیا تھا۔ محدث کے قاری جناب نثار احمد کھوکھر اور چند دیگر حضرات نے اس غلطی پر نشاندہی کی اور حدیث کی مکمل تحقیق شائع کرنے کی استدعا کی۔
  • اپریل
1992
زبیر علی زئی
محترم جناب غازی عزیر صاحب حفظہ اللہ قارئین "محدث" کے لئے محتاج تعارف نہیں۔  آپ کے مضامین اکثر محدث کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔محدث(زی الحجہ 1409ہجری) میں"الاستفتاء" کے اوراق  پر آپ کامقالہ بعنوان " کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول وبراز پاک تھا؟ شائع ہوا تھا جس میں فاضل مقالہ نگار کوتگ ودود کے باوجود چند احادیث کاطریق نہ مل سکا۔محترم زبیر بن مجدد علی صاحب نے ان احادیث کے طرق کا تتبع کیا ہے اور حوالہ تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔قارئین کے علم میں اضافے کی خاطر ان کے"استدراک" کو شائع کیاجارہا ہے۔۔۔ادارہ
  • اکتوبر
1996
عبدالرحمن مدنی
نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
  • جنوری
1996
زبیر علی زئی
نور اور ظلمت کے اختلاط کو عربی لغت میں "الدلس" کہتے ہیں (نخبة الفكر ص71 وغيره) اور اس سے دلس کا لفظ نکلا ہے جس کا مطلب ہے:

كتم عيب السلعة عن المشتري

"اس نے اپنے مال کا عیب گاہک سے چھپایا" (المعجم الوسيط ج١ص2293،و عام کتب لغت)
  • مارچ
1973
عزیز زبیدی
منظر اور پسِ منظر:

دنیا ہرجائی تھی، بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سبھی کے ہیں مگر ٹٹولو تو کسی کے بھی نہ تھے۔ خدا رکھتے تھے پر ان کا خدا ان کے نرغے میں تھا، گو وہ انسان تھے مگر انسانیت کے بہت بڑے دشمن تھے، اس لئے مکی دَور میں ان کو خدا فہمی، خدا جوئی، پاسِ وفا اور انسانیت کا درس دیا گیا
  • اپریل
1973
عزیز زبیدی
الم ﴿١﴾ ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة


الف، لام، میم، یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلامِ الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔

(۱) الٓمّٓ (الف، لام، میم) یہ حروف بقرۃؔ، آلِ عمرانؔ، عنکبوتؔ، رومؔ، لقمانؔ اور سجدہؔ کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کا نام 'حروفِ مقطعات' ہے۔ ۱۱۴ سورتوں میں سے (۲۹) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطّعات سے ہوا ہے۔ وہ کل یہ ہیں: ا، ج، ر، س، ص، ع، ق، ک، ل، م، ن، ہ، ی۔
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
1۔ یقول محمد بن قیس سمعت عائشہ تقول الااحدثکم عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہوسلم وعنی قلنابلیٰ قالت لما کانت لیلتی انقلب فوضع نعلیہ عند رجیلم ووضع ردآءہ و بسطرا زار علی فراشہ ولم یلبث الاریثما ظن انی قد رقدت ثم انتعل رویدا واخذ رداء ہ رویدا ثم فتح الباب رویدا و خرج واجافہ رویدا وجعلت درعی فی راسی فاختموت و تقنعت ازادی و انطلقت فیاثرہ حتی جآء البقیع فوخع یدیہ ثلث مرات و اطلا القیام
  • جون
1972
محمد خالد سیف
''علومُ الحدیث'' پر ایک ناقدانہ نظر:

اگرچہ امام ابن الصلاحؒ کو تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور لغت وغیرہ مختلف علوم و فنون میں یدِ طولےٰ حاصل ہے اور خصوصاً اصولِ حدیث میں تو آپ امامت و اجتہاد کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور آپ کی اس شہرۂ آفاق تصنیف کو اس فن میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے
  • جنوری
1993
مفتی محمد عبدہ
حضرت مولانا مفتی محمد عبدہ الفلاح صاحب کی شخصیت جماعتی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں۔ آپ اکابر علماء میں سے ہیں۔ آپ نے جہاں قریباً نصف صدی وطن عزیز کے اہم جامعات و مدارس کو اپنی تدریسی خدمات سے سرفراز فرمایا وہاں آپ کی تصنیفی و تالیفی خدمات بھی ملت کے علمی سرمائے میں گراں قدر اضافے کا موجب بنیں۔ پاکستان بھر میں آپ کے فیض یافتہ علماء کی ایک بڑی تعداد دینی خدمات میں مصروف ہے۔ تدریس کے مسائل کو عام فہم انداز میں حل کردینا آپ کی تدریس کا
  • اکتوبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
ولادت اور نام و نسب:۔
امام ترمذی 210ھ کے حدود میں پیدا ہوئے بعض نے 209ھ ذکر کیا ہے۔کیونکہ وفات بالاتفاق 279ھ ہے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے میزان الاعتدال میں 279ھ وفات ذکر کی ہے اور لکھا ہے:
"وكان من ابناء سبعين"
یہی الفاظ علی القاری نے شرح الشمائل میں ذکر کیے ہیں،پس ان جملہ اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ امام موصوف 209ھ میں پیدا ہوئے لہذا ان کی ولادت 210ھ ہی ہے۔(1)
امام ترمذی کا نام محمد،باپ کا نام عیسیٰ اور کنیت ابو عیسیٰ ہےاور  پورا نسب یہ ہے:
محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن الضحاک اور نسبت اسلمی الترمذی ہے بعض نے البوغی کی نسبت بھی ذکر کی ہے کیونکہ آپ قریہ بوغ میں مدفون ہیں جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ کی مسافت  پر واقع ہے۔(2)لیکن ترمذی کی نسبت زیادہ مشہور ہے اور اسی نسبت سے معروف ہیں۔(3)
  • دسمبر
2015
ابن بشیر حسینو ی
نام و نسب:ابوالحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان بن دینار بن عبداللّٰہ بغدادی دارقطنی﷫تاریخ پیدائش:۳۰۶ھ [1]

دارقطنی کی وجہ تسمیہ :بغداد میں ایک محلہ تھا جس کا نام دارُالقطن تھا، وہاں کے رہائشی تھے اس كى وجہ سے اسی طرف منسوب ہوئے ۔

اساتذہ: آپ نے اس قدر زیادہ شیوخ سے استفادہ کیا جن کا شمار ناممکن ہے، ان کے چند مشہور اساتذہ درج ذیل ہیں :
  • جولائی
  • اگست
2015
ابن بشیر حسینو ی
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں سے اپنے دین حنیف کی خدمت کا کام لیا اور بعض کو اپنے دین کے لئے خاص کر لیا جن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا قرآن وحدیث کو عام کرنا تھا ۔اُنھی چنیدہ افراد میں سے ایک ہمارے ممدوح امام طبرانی﷫ بھی ہیں۔ ان کے حالات اور ان کی کتب حدیث کا تعارف واُسلوب (منہج )پیش خدمت ہے ۔امام طبرانی﷫ کے حالات کے لیے تاریخ اصبہان ،جزء فیہ ذکر الامام الطبرانی ،سیر اعلام النبلاء، تذکرۃ الحفاظ اورالمعجم الصغیر وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔
  • ستمبر
1971
عبدالسلام کیلانی
امام لقب، شیخ الاسلام خطاب، ابو عبد اللہ کنیت ہے۔ ان کا نام نامی محمد اور والد کا نام نصر ہے۔ خراسان کے ایک قدیم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ علمی مرکز ''مرو'' کی طرف نسبت کی وجہ سے مروزی کہلاتے تھے۔ ان کی پیدائش ۲۰۲ھ میں بغداد شہر میں ہوئی جب کہ وہ علم و سیاست کا گہوارہ بن چکا تھا۔ ابتدائی تعلیم اور نشوونما نیشا پور کے حصہ میں آئی۔ پھر علم کی پیاس بجھانے کے لئے دنیا کا کونا کونا چھان مارا۔ بالآخر سمر قند میں رہائش پذیر ہوئے۔
  • مارچ
1989
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
  • جنوری
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
(215تا303ھ)

ابو عبدالرحمٰن ،احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر الخرسانی ،النسائی صاحب "السنن"

"نساء"کی طرف نسبت:
  • مارچ
2004
عبدالصمد رفیقی
'نبوت و رسالت' بڑا اہم، نازک اور عالی شان منصب ہے۔ اس منصب کے تین خاصے وحی ٴہدایت، معصومیت اور واجب الاتباع ہونے پر سطورِ ذیل میں ہم گزارشات پیش کرتے ہیں :
ان پہلووں کا آپس میں گہراربط ہے کیونکہ ایک نبی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ٴہدایت آتی ہے
  • اگست
  • ستمبر
2002
صفی الرحمن مبارک پوری
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کے متعلق تبيانا لکل شيئ اور تفصيلا لکل شيئ والی آیات پیش کی جاتی ہیں۔ جن کا مطلب توڑ مروڑ کر اور غلط ملط بیان کرکے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ کی تفصیل موجود ہے۔
  • اپریل
2011
فاروق رفیع
قرآنِ مقدس اور اَحادیثِ نبویہؐ دین اسلام کی اَساس ہیں جن پرشریعت ِاسلامیہ کی پوری عمارت استوار ہے۔ دین حنیف پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ یہ تحریف وتنسیخ،اِفراط وتفریط،تغیر و تبدل، گمراہ واعظوں کی چیرہ دستیوں،حیلہ باز وں کی من پسند تاویلوں اورابن الوقت دین فروشوں کی ہلاکت خیز شرانگیزیوں سے مامون و محفوظ ہے۔