• جنوری
  • فروری
1974
زاہد علی واسطی
یورپی مستشرقین نےحضرت نبی کریمﷺ کی کثرت ازواج مطہرات پربہت سے اعتراض کیے ہیں او راب بھی بعض مکتب فکر کے لوگ جو حقیقت حال سےناواقف ہوتے ہیں۔ واقعات کا دیانت دارانہ جائز لئے بغیر رحمۃ للعالمینؐ کی عظمت و منصب کا لحاظ رکھے بغیر اشارتاً یا کنایتاً ایسے خیالات کا اظہا رکرتے رہتے ہیں۔ از روئے انصاف و عقل بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے ہرایک پہلو کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
  • جنوری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
  • دسمبر
2000
عبدالجبار سلفی
(جس سے بے اعتنائی برتنے پر،اُمت باہمی خلفشار کا شکار ہے!)

حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  بن جبل،حسن وجمال،بذل وعطاء ،جودوسخا ،مہرووفا،احسان ومروت ،شجاعت وفتوت جیسے اوصاف میں یگانہ روگار تھے۔سخی اتنے کہ سائل کو خالی نہ جانے دیتے اگر چہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے،کثرت سخاوت کے باعث آپ مقروض ہوگئے۔قرض خواہوں کے شدید تقاضوں پر حضرت  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کا مکان اوراثاثہ نیلام کرکے ان کاقرض ادا کیا۔چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس حال میں اُٹھے کہ تن کے کپڑوں کے سواکوئی چیز نہ بچی!!
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے حال پر شدید دل گرفتہ اور رنجیدہ ہوئے اور ان کو یمن کا گورنر مقرر کردیا اور ہدیہ قبول کرنے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی اور ان کو ایسی نصیحتیں کیں جو تمام امت کےسربرآوردہ لوگوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ،حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو زندگی کی آخری وصیتیں کررہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:
"اے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تو اہل کتاب کے ہاں جا رہا ہے اور وہ تجھے جنت کی چابیوں کے متعلق پوچھیں گے تو انہیں بتانا کہ لاالٰہ الا اللہ جنت کی چابی ہے۔یہ ایسا بابرکت اور پرتاثیر کلام ہے جو ہر چیز کو چیرتا ہوا عرش الٰہی پر پہنچتا ہے اور کوئی چیز اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔جو کوئی انسان کو شرک سے بچا کر لے آئے گا یہ روز قیامت اس کے سبب گناہوں پر بھاری ہوجائے گا۔"
  • اگست
1972
عبدالرشید اظہر
قارئین کرام پہلی دو قسطوں میں دینی مدارس میں زیرِ تدریس علوم و فنون کا تاریخی ارتقاء و انحطاط اور ان کی مروجہ نصابی حیثیت پر ہمارا ناقدانہ تبصرہ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب میں اسلامی تعلیم کے صحیح مقصد کی روشنی میں چند بنیادی اصلاحی تجاویز پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اربابِ فکر اور اصحابِ مدارس ان کا ماہرانہ جائزہ لے کر انہیں عملی جامہ پہنانے کی سعی مشکور کریں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو! آمین
  • فروری
2000
مولانا حافظ ابو الحسن محمد سیالکوٹی ۔
(102بجلی آسمانی برسر دجال قادیانی۔
مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی رحمۃ اللہ علیہ ۔ 
(103)القول الصریح تکذیب مثیل المسیح : 1309ھ صفحات44۔
اس کتاب میں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح کی تکذیب کی گئی ہے اور آیات قرآن میں تحریفات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
مولانا مصلح الدین اعظمیٰ رحمۃ اللہ علیہ  
(104) ختم نبوت کی حقیقت عقل و نقل کی کسوٹی پر صفحات 16۔یہ رسالہ مرزا بشیر احمد قادیانی کی کتاب "ختم نبوت کی حقیقت "کے جواب میں ہے ۔
(105)مرزا غلام احمد قادیانی اپنے عقائددعاویٰ اور تصنیفات کے آئینہ میں: صفحات 16،اس  میں مرزاقادیانی کے عقائد کو اس کی تصنیفات کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے ۔
(106) مدلل جواب :1978ء،صفحات12۔
  • فروری
2007
شیخ احمد فہمی
زير نظر مضمون سلفيّت كو در پيش عالمى صورتحال بالخصوص عرب ممالك ميں در پيش حالات كے تناظر ميں تحرير كيا گيا ہے- اس مضمون ميں سلفيت كو 'اُصول پسند اسلام' يا 'اپنے مسائل كے حل كيلئے كتاب وسنت تك براہ راست رسائى' كے مفہوم ميں استعمال كيا گيا ہے جس كے ايك اہم مظہر كے طورپر اہل مغرب سعودى عرب اور اس كے بعض عرب ممالك ميں پائى جانے والى دينى لہركو پيش كرتے اور اسے 'وہابيت' سے موسوم كرتے ہيں -
  • جولائی
2012
محمد سعد شویعر
اصطلاحاً 'وہابی' نام رکھنا، نسبت و اعتقاد کے لحاظ سے اسی طرح غلط ہے جس طرح شیخ محمد اور ان کے متبعین کی طرف منسوب نظریات غلط تھے اور اُن لوگوں نے اس سے برات ظاہر کی۔سلفی عقیدے کے متلاشی دین اسلام کے دونوں سرچشموں: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کا مقصد زیادہ بہتر سمجھتے ہیں،
  • دسمبر
2015
حمیداللہ عبدالقادر
عصرِ حاضر میں جہاں انسان نے اپنی قابلیت و استعداد کے جوہر متعدد شعبہ ہائے زندگی میں دکھلائے ہیں، ان میں ذرائع وسائل یا ذرائع ابلاغ ایک اہم موضوع ہے جو اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کا موضوع بحث ہے ۔ ذرائع وسائل کا استعمال خواہ قومی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر، تعمیر و تخریب دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ سعادت مند ہے وہ فرد یا قوم جو وسائل کا استعمال ذاتی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کرتی ہے،
  • جون
2009
عبدالعظیم جانباز
موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ غو رکیاجائے تو محسوس ہوگا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہی ہمارے ذہنوں پر حکومت کررہاہے۔یہاں ہم سے مراد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے وہ ممالک بھی اس میں شامل ہیں جہاں سیاسی شعور کافقدان ہے۔ جہالت عروج پر ہے اور مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہرقسم کی رہنمائی کے لیے مغرب کی جانب دیکھتاہے۔
  • دسمبر
1972
عزیز زبیدی
آزر، براہیم اور اسماعیل، اندازِ زیست سب کے جدا جدا، بات بُت فروش، بیٹا بُت شکن اور صاحبزادہ سر فروش۔ وہ مظاہرہ پرست، یہ خدا پرست اور تیسرا تسلیم و رضا کا پیکر۔ اپنا اپنا نصیب اور اپنی اپنی فطرت! ایک ہی درخت، کچھ کانٹے، کچھ پھول اور کچھ شیریں پھل۔