• جنوری
2010
تاج الدین الازہری
تقدیر پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام کے ارکانِ خمسہ کے طرح ایمانیات میں چھ چیزیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پر ایمان لانا شامل ہے۔ اس چھٹی شے تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ دیگر پانچ ارکان کے بغیر تقدیر پر ایمان کا پورا ہونا ممکن نہیں، ایسے ہی تقدیر کے بغیر باقی چیزوں پر ایمان کو بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا۔
  • جنوری
1982
جمیل احمد رضوی
"مجلس التحقیق الاسلامی" کے زیرِ اہتمام ہر سال قانون و شریعت کنونشن منعقد ہوتا ہے، لیکن گذشتہ سال مجلس نے کنونشن کے بجائے دس روزہ سیمینار کا انعقاد کیا تھا ۔۔۔ زیر نظر مقالہ ، جو اس سیمینار میں پنجاب یونیورسٹی کے لائبریرین جناب سید جمیل احمد صاحب رضوی نے پڑھا تھا، اپنی افادیت کی بناء پر ہدیہ قارئینِ "محدث" ہے۔ (ادارہ)
اسلامی کتب خانوں کو زیرِ بحث لانے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کتب خانہ جس ادارہ کی ایجنسی ہے، اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے ؟[1] اگر ہم اس پہلو کو پہلے جان لیں، تو پھر یہ سمجھنا آسان ہو گا کہ اسلام میں کتب خانوں کی کیا اہمیت ہے اور مسلمانوں نے اپنی تہذیب و ثقافت کے عروج کے دور میں اس طرف کتنی توجہ مبذول کی؟
اسلام میں علم کی اہمیت: ۔۔۔ لائبریری جس ادارہ کی ایجنسی ہے، وہ علم ہے اور اسلام نے علم کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی، اس میں پڑھنے کا ذکر تکرار کے ساتھ موجود ہے۔ تعلیم اور آلاتِ تعلیم میں سے قلم کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ علق میں ارشادِ رب العزت ہے:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾...العلق 
"(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھئے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اسی نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی اور انسان کو وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہ جانتا تھا۔"
  • مئی
  • جون
1995
چودھری عبدالحفیظ
کتاب"اشاریہ تفہیم القرآن" نظر سے گزری۔فاضل مرتبین جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ڈائیرکٹر ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور آنسہ پروفسیر ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحب چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔انہوں نے بجا طور پر بروقت اہل علم،ریسرچ سکالرز،قرآن وسنت کے طالب علموں اور دین کاشغف رکھنے والوں کی آواز پر لبیک کہا اور"تفہیم القرآن" کا اشاریہ  ترتیب دے کر علمی اضافہ کیا۔
واقعتاً قرآن سے استفادہ کرنے اور خصوصاً "تفہیم القرآن" سے مستفید ہونے کےلئے اشاریہ کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی مگر اس میں کوئی صاحب علم آگے نہ بڑھا حتیٰ کہ "الفضل للمقدم"کے مصداق یہ سعادت فاضل مرتبین کے حصے میں آئی۔جس کے لئے وہ تمام اہل علم کی طرف سے مبارکبار کے مستحق ہیں۔جزاھما اللہ عنا خیرا الجزاء
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبداللہ عابد
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے :
''لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمری مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدری، ما وجدنا فی کتاب الله اتبعناه '' (۱)
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب۔۔۔مقامِ صحابہ رضی اللہ عنہم (شیعہ مذہب کی کُتب کی روشنی میں)
مؤلف۔۔۔ مولانا حکیم فیض عالم صدیقی مرحوم
صفحات۔۔۔ 126
قیمت۔۔۔ 18 روپے
ناشر۔۔۔ مکتبہ فیض القرآن، محلہ مستریاں، جہلم
مرحوم حکیم مولانا فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ہماری جماعت کے صاحب علم و قلم بزرگ گزرے ہیں۔ انہوں نے شیعہ مذہب کی جملہ کتب کو کنگھالا ہوا تھا اور شیعہ مذہب پر علمی و تحقیقی انداز میں سخت تنقید کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بلند مرتبہ ہونا صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ اکابر کے ہاں بھی مسلم ہے اور ان کی کتب اس پر شاہد ہیں۔
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
نام کتاب:                                سید بادشاہ کا قافلہ
مولفہ: آباد شاہ پوری         ضخامت: 456 صفحات
بڑا سائز، کاغذ کتابت، طباعت عمدہ، مجلد، سنہری ڈائیدار، قیمت 48 روپے
ناشر: البدر پبلی کیشنر 23 راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور
سید احمد شہید بریلوی نے عزم و ہمت، صبر و استقامت اور راہِ حق میں بلا کشی کے جو نقوش سیتہ گیتی پر مرتسم کئے، وہ ابدالاباد تک اہل ایمان کے دلوں مین حرارت پیدا کرتے رہیں گے۔ فی الحقیقت احیاء دین کے سلسلہ میں سید احمد شہید اور ان کے سرفروز رفقاء کی مساعی جمیلہ اور ان کی داستان، جہاد و شہادت ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے، اتنا تابناک کہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ اپنی منزلِ مقصود کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے سید احمد کی تحریک جہاد کا تعارف یوں کرایا ہے:
"تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی، یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے، اس مجددانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔" (دیباچہ سید احمد شہید از سید ابوالحسن علی ندوی)
  • دسمبر
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
صلوٰۃ الرسول:مولانا حکیم محمد صادق صاحب سیالکوٹی مرحوم ومغفور
تخریج وتعلیق وحواشی:مولانا حافظ عبدالرؤف صاحب ،مولانا حکیم محمد اشرف صاحب سندھو مرحوم ومغفور
صفحات: 548۔قیمت 100 روپے
ناشر  :دارالاشاعت اشرفیہ،سندھو بلو کی ضلع قصور
تاریخ اشاعت : جنوری 1989ء طبع :اول
اردو زبان میں نماز کے موضوع پرچھوٹی ،بڑی ،مختصر اور مفصل اس قدر کتب لکھی گئی ہیں کہ اُن کا شمار نا ممکن ہے۔مگر جس کتاب کو سب سے زیادہ  شرف قبولیت حاصل ہوا وہ معروف اہل قلم مرحوم ومغفور حضر ت مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی (عربی) آمین)کی ترتیب دادہ کتاب"صلواۃ الرسول" سے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر سب سے زیادہ جامع اور مفصل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کی بڑی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔جیسا کہ مولانا مرحوم کی تحریر کا انداز تھا۔
  • اپریل
1992
محمد مسعود عبدہ
نام کتاب۔عالم برزخ
مولف۔عبدالرحمان عاجز
ناشر۔رحمانیہ دارالکتب۔امین پور بازار فیصل آباد
ہر روزاٹھتے جنازوں اور ہنگاموں سے بھر پور بستیوں کے دامن میں قبرستانوں کے سناٹوں کو  دیکھ کر انسان شعوری یا لاشعوری طور پر بے ساختہ یہ کہنے پرمجبور ہوتا ہے۔
دل دھڑکنے کو زندگی نہ کہو
موت کااضطراب ہوتاہے
مگر خوگر پیکر محسوس انسان کی عقل ودانش یہیں تک دم توڑ دیتی ہے۔
  • اکتوبر
1982
اکرام اللہ ساجد
ابراء اهلحديث والقرآن مما فى جامع الشواهدمن التهمتر البهتان 
تاليف------------------ مولانا حافظ عبدالله محدث غازى پوری 
صخامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 136 صفحات 
ناشر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبداللہ سلیم ناظم نشرواشاعت دارالحدیث کمالیہ 
رجسٹر راجووال ]( ساہیوال ) 
ملنے کاپتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبحانی اکیڈیمی اردو بازار لاہو ر 
سفید کاغذ، آفسٹ طباعت وکتابت ، قیمت درج نہیں ۔
تقریباً ایک صدی قبل ( 1883؁ ء میں ) صادق پور، عظیم آباد ۔پٹنہ کےعلاقے سےایک رسالہ یافتویٰ شائع کرکے عوام میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں درج ذیل سوالات اٹھائے گےتھے
  • مارچ
1980
طالب ہاشمی
پاکستان مین مسیحیت

تالیف :ڈاکٹر محمد رضا صدیقی
ناشر :مسلم اکادمی ۔ 18/29 محمد نگر لاہور 
قیمت :چالیس روپے صفحات :520
برصغیر پاک وہند میں مسیحیت کا پھیلاؤ ایک عبرت انگیز داستان ہےجس کی طرف بہت کم توجہ دی گ‘ی ہے ۔جناب امدادصابیری صاحب کی تالیف ’’فرنگیوں کا جال ‘‘ اس موضوع پر پہلی قابل ذکر کتا ب ہے ۔ انہوں نے برصغیر میں جلال الدین اکبر کےزمانے سے لے کر برطانوی عہد اقتدار تک مسیحت کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا ہے ۔ اس تالیف کے بعد مسحیت کے بارے میں مناظر انہ اور تحقیقی انداز کی کتابیں تو شائع ہوتی رہیں مگر کسی نے مسیحی تبلیغی اداروں کی راز دارانہ اور کھلم کھلا سرگرمیوں کا  جائزہ نہیں لیا حتی  کہ 1952 ء میں ایک مسیحی پرچے ’’ ‘‘ نے اشاعت مسیحیت پر ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ سے پاکستان میں بھی ہلچل پیدا ہوئی ۔ چند کتابچے منظر عام پر آئے جناب حافظ نذر احمد صاحب نے پاکستان میں فروغ مسحیت پر اعد اد وشمار کی زبان میں گفتگو کی اور اہل نظر کو پاکستان میں راتداد کی تشویشناک صورت حا ل کی طرف توجہ دلائی ۔
  • فروری
2004
حسن مدنی
ایسی کیفیت کبھی طاری نہیں ہوئی؛ دل کے عین وسط میں ایک انگارہ سا مسلسل دہک رہا ہے۔ دماغ میں دوڑتی باریک رگوں میں جیسے کوئی مسلسل سوئیاں سی چبھو رہا ہے، اعصاب شکستگی سے نڈھال اور خستگی سے چو ُر ہیں ۔ سوچ کی مرجھائی شاخ پر کسی خیال کی کوئی کونپل نہیں پھوٹ رہی۔ قلم پر اُنگلیوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ہے اور لفظ روٹھ جانے والے دوستوں کی طرح میری فکر سے گریزاں ہیں۔
  • اپریل
1987
ادارہ
مورخہ 22 فروری بروز اتوار بعد نماز ظہر جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں ملک کے متعدد مقامات سے تشریف لانے والے جید علمائے کرام، فاضل مدرسین عظام اور ممتاز مصنفین کاایک خالص علمی و دینی اجتماعی مولانا عبدالقادر ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔تلاوت قرآن پاک کے بعد راقم السطور نے اجلاس کے انعقاد کے اغراض و مقاصد شرح و بسط سے بیان کیے اور یہ کہا کہ ہم جامعہ میں علمائے کرام کے مشوروں، تجاویز و آراء
  • مارچ
1989
عبد الرحمن مدنی
قارئین کرام!
ماہنامہ "محدث" کے گزشتہ تین شماروں میں جناب پروفیسر محمد دین قاسمی کا مضمون بعنوان "اشتراکیت کی درآمد قرآن کے جعلی پرمٹ پر" شائع کیا گیا۔ جس کے ردِعمل میں ناظم ادارہ "طلوعِ اسلام" لاہور کی طرف سے مدیرِ اعلیٰ "محدث" کو خط موصول ہوا جس میں جناب قاسمی صاحب کے مضمون کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس پر ادارہ نے یہ خط براہِ راست صاحب مضمون کو ارسال کر دیا، جس کے جواب میں جناب موصوف نے ایک مفصل خط بنام ادارہ طلوعِ اسلام لکھا اور اس کی ایک نقل ہمیں بھی ارسال فرمائی۔
ہم اپنی سابقہ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی فراخدلی کے ساتھ ادارہ "طلوعِ اسلام" کا خط ان کی خواہش کے مطابق اور جناب قاسمی صاحب کا جواب شائع کر رہے ہیں اور اپنے معاصر "طلوعِ اسلام" سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ہماری طرح وہ بھی ان دونوں خطوط کو شائع کرے گا کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔۔۔۔ادارہ
  • جولائی
2000
عبدالرؤف ظفر
محترم و مکرم جناب حافظ حسن مدنی صاحب ،مدیر معاون ،السلام علیکم!

جون کے محدث میں آپ نے میرامضمون شائع کیا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ص56پر آپ نے "سیکولرازم کے فتنہ اباحیت کا شکار"کے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کی وجہ سے میں نے اپنا مضمون بہت غورو فکر سے کئی مرتبہ پڑھا لیکن باوجود کوشش کے اس مفہوم کوتلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا بلکہ مجھے تو اس میں سیکولرازم کی مکمل نفی نظر آئی ۔آپ کی دوبارہ توجہ اور غور کے لیے اپنے مضمون کے چند اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔مضمون کے آخری تین چار صفحات جو ابھی شائع نہیں ہوئے میں جدید اطراز حکومت سے استفادہ کی باتیں لکھ کر میں نے تحریر کیا تھا کہ:
  • نومبر
1972
عزیز زبیدی
معزز معاصر ''بینات'' ستمبر 1972ء میں مولانا نبوری دیو بندی کا ایک مضمون بعنوان ''منصبِ رسالت اور سنت کا تشریعی مقام'' شائع ہوا ہے۔ مولانا بنوری نے جامع ترمذی کی ایک شرح معارف السنن لکھی ہے، جس کا ایک مقدمہ ''عوارف المنن'' کے نام سے الگ حریر فرمایا ہے، مندرجہ ذیل مضمون مولانا مووف کے اسی مقدمہ کے ایک باب کا ترجمہ ہے ادارہ بینات نے پیش کیا ہے۔
  • اگست
2008
ادارہ
محترم و مکرم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی ، جناب حافظ حسن مدنی صاحب حفظہم اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ
اللہ کرے آپ کے ہاں مکمل خیریت و عافیت ہو۔ آمین۔ ماہِ جون 2008ء کا 'محدث' ملا، جس کو آپ نے'تصویر نمبر' لکھا ہے،
  • نومبر
1971
ادارہ
ہر اہل حدیث اس سے باخبر ہے کہ روپڑی خاندان ایک عرصے سے برصغیر ہند و پاک میں مسند رشد و ہدایت، وعظ و تبلیغ اور تدریس و افتاء کا حامل چلا آرہا ہے۔ اس خاندان کے مولانا حافظ محم اسمٰعیل روپڑی، مولانا حافظ محمد حسین اور حضرت العلام مولانا حافظ عبد اللہ صاحب روپڑی رحمہم اللہ نے جو علمی، تبلیغی، تدریسی اور تصنیفی خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہ تاریخ اہل حدیث کا ایک روشن باب ہیں۔