اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے، اس میں حسن توازن، تناسب اور اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چونکہ اشرفُ المخلوقات ہے، اس باعث اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں بھی عدل کا پہلو نمایاں ہے۔ انسان کو اس جہاں رنگ و بو میں جو تمیز اور ارادہ کی قوتیں اور اختیارات بخشے گئے ہیں، عدل کا تقاضا ہے کہ اس کائنات کی صفوں کو لپیٹ کر ایک ایسا دن برپا کیا جائے جہاں اور جب انسانی اعمال کی جزاوسزا کا فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جا سکے۔
عبدالجبار شاکر
1999
  • اپریل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قضا کے منصب پر فائز کیا اور اس کے کچھ اُصول مقرر کیے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَـٰبٍ ۖ وَأُمِرْ‌تُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ''...﴿١٥﴾...اور فرمادیجئے میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں ۔''
عبدالرؤف ظفر
2008
  • اکتوبر

عدل مصدرہے، اس کا مادہ ع د ل ہے، اس مادے میں برابری اور مساوات وانصاف کا مفہوم ہے۔

لسان العرب میں ہے:

''عدل، إنہ مستقیم وھو ضدّ الجور، العدل: من أسماء اﷲِ ھو الذي لایمیل بہ الھوٰی، العدل الحکم بالحق''

عبدالرؤف
2008
  • ستمبر