اردو زبان میں سیرت طیبہ نبویہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ) پر بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروں مقالات لکھے جا چکے ہیں اور کوئی ہفتہ یا مہینہ ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی نئی کتاب یا کتابچہ منظرِ عام پر نہ آتا ہو۔ اس کثرتِ تالیف کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ قبولِ عام کے دربار میں بہت کم مصنفوں کو جگہ ملی ہے۔ اسی گروہ میں مناظر احسن گیلانی مرحوم شامل ہیں۔
مناظر احسن گیلانی
1976
  • مارچ
  • اپریل
اللہ تعالی کی حمد وثنا کے بعد، شریعت ِالٰہیہ کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں عدل کا لحاظ رکھا گیا ہے تاکہ ہر صاحب ِحق کو کسی کمی بیشی کے بغیر اس کا حق دیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عدل، احسان اور قریبی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدل کے ساتھ ہی رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں اور عدل سے ہی دنیا و آخرت کے اُمور قائم ہیں۔
شیخ صالح العثیمین
2001
  • فروری
اسرائیل کی غزہ پر تباہ کن بمباری، اس کی مکمل تباہی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینی بچوں کے براہ راست قتل عام نے دنیا بھر کے لوگوں کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ بمباری میں بچوں کے چیتھڑوں اور مسخ شدہ لاشوں، مساجد اور گرجا گھروں کی تباہی نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے لیکن ایسا مین سٹریم میڈیا کے ذریعے نہیں ہوا ہے بلکہ یہ شعور تصاویر ٹویٹر اور فیس بُک کے ذریعے بیدار ہوا ہے ۔
خالد المعینا
2014
  • اگست
دنیا میں عالم اسلام میں سب سے زیادہ عربی مدارس،مدارس کے اساتذہ اور مدارس کے طلبہ بنگلہ دیش میں ہیں۔ یہ امتیاز کسی اور مسلمان ملک کو حاصل نہیں ہے ۔اس وقت بنگلہ دیش میں 60لاکھ ایسے افراد ہیں جو کسی نہ کسی حیثیت سے مدارس سے وابستہ ہیں۔
بنگلہ دیش میں تین طرح کے مدراس ہیں ایک وہ جو حکومت سے کوئی امداد اور تعاون نہیں لیتے نجی ہیں ان کو قومی یا خارجی مدارس کہتے ہیں دوسرے عالیہ مدراس ہیں جو نجی ہیں لیکن حکومت سے مالی اعانت وصول کرتے ہیں تیسرے خالصتاً سر کاری مدارس ہیں جن کی تعدادچار ہے ان کو بھی عالیہ مدرسہ کہا جا تا ہے ایسے عالیہ مدرسے ڈھاکہ بوگرہ راج شاہی اور جیسورمیں ہیں قومی مدرسوں کی تعداد 6ہزار 5سوہے ۔یہاں مکمل درس نظامی پڑھا یا جاتا ہے اس میں سے 30فیصد مدارس میں دورہ حدیث  بھی ہوتا ہے 1993ء میں ایسے مدارس کی تعداد صرف 12یا 13فیصد تھی جہاں دورہ حدیث کا انتظام تھا اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے علماء کی بہت بڑی اکثریت درس نظامی مکمل کر کے دورہ حدیث کے لیے دیوبند جایا کرتی تھی لیکن بھارتی حکومت نے اس خطرے کے پیش نظر کہ یہ سارے لوگ آئی ایس آئی کے ایجنٹ کے طور پر بھارت جائیں گے۔ ویزےبند کردئیے ۔اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں مدارس نے خود دور ہ حدیث کے انتظامات کئے اس وقت صرف ڈھاکہ میں 28مدارس ایسے ہیں جہاں دورہ حدیث ہوتا ہے قومی مدارس کے اساتذہ کی تعداد ایک لاکھ 30ہزار اور طلبہ کی تعداد14لاکھ62ہزار5سو ہے۔
ممتاز احمد
2000
  • دسمبر
پہلے حصے یا سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس وقت مسلمانانِ عالم کا کوئی عالمی کردار نہیں ہے۔ یعنی کہنے کو تو مسلمانوں کی ۶۰ مملکتیں ہیں اور ان میں اور دیگر ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی ایک اَرب سے متجاوز ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان افرادی قوت اور متعدد قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں، ان کا جغرافیائی محل وقوع بھی نہایت اہمیت کا حامل اور تقریباً باہم پیوست ہے
صلاح الدین یوسف
2002
  • مارچ
کسی قوم کے لئے اس سے بڑی موت کیا ہوگی کہ تعلیم وتعلّم کے میدان میں قوم کے روحانی باپ اس سے چھین لئے جائیں۔ اس قوم کا مستقبل بڑا ہی تاریک ہے جو علم سے یوں تہی دامن ہو جائے کہ وہاں علم کو پڑھانے اور کتابوں کے سمجھانے والے ذہین دماغ ہی نہ رہیں۔ عالم کی موت دنیا بھر کی موت ہے
ثروت جمال اصمعی
2011
  • مئی
اسلام آبادکے دھرنوں کے اثرات پاکستان اور اس خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا، لیکن یمن کے دار الحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا دھرنا کامیاب ہو گیا ہے اور 17؍اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو 21؍ستمبرکے روز اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔
زاہد الراشدی
2014
  • اکتوبر
مارچ 2011ء کے ماہنامہ 'محدث' لاہور، شمارہ نمبر 345 میں ''عہد ِرسالت اور سائنس وٹیکنالوجی'' کے عنوان سے شائع ہونے والا مقالہ ایسے ہی دل درد مند کی ایک پکار ہے جس میں مقالہ نگار محترم ڈاکٹر نعمان ندوی نے قرآنی آیات اور سیرتِ طیبہ کے حوالہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ زوالِ اُمت ہمارے ضعفِ ایمان کا نتیجہ ہے۔
اقبال کیلانی
2011
  • مئی
سعودی عرب کا دستور جدیث مارچ 1992ء سے مملکت میں نافذ العمل ہے۔ ہر چند کہ اخبارات و جرائد میں اس کا بے حد چرچا رہا لیکن اکثریت اس کی بنیادی خاکہ سے بھی ناواقف ہے۔ چند ایک ترجمے بھی شائع ہوئے لیکن وہ مترجمین کے مخصوص نظریات کے بھینٹ چڑھ گئے۔ دستور تاحال اپنی اصلی روح کے ساتھ منظر عام پر نہیں آیا۔ اسی ضرورت کے مدنظر ادارہ ہذا نے اس کے ترجمے کا اہتمام کیاہے تاکہ نہ صرف اسلامک لاء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بلکہ قارئین محدث کے لئے بھی 
محمد اسحاق
1993
  • جنوری
زیر نظر مضمون مربوط خدشات سے بھرپور اگرچہ منفی نقطہ نظر کا حامل ہے تاہم مسلمانوں کے موجودہ حالات کے تناظر میں اسے بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اوبامہ کے بارے میں مسلمانوں میں پائی جانے والی خوش فہمی کا ایک دوسرا رُخ ہے۔ اس مضمون میں بیان کردہ استدلال کی تائید جہاں پاکستان کے موجودہ سنگین ترین حالات سے ہوتی ہے،
ادارہ
2009
  • اگست
دوسرا موضوع تھا ''الوحدۃ الاسلامیہ'' یعنی اتحاد عالم اسلامی۔ اس موضوع پر بہت کم مقالے پڑھے گئے۔ ایک مقالہ دکتور عبد العزیز کامل کا قابل توجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو چیزوں میں تشابہ یا تباین دیکھنا بڑی حد تک دیکھنے والے کے نقطۂ نظر کی بات ہے۔ عالم اسلامی کے قلب میں وہ قوم ہے جو سب سے پہلے اسلام کا جھنڈا لے کر نکلی اور جس کی زبان قرآن کی زبان ہے۔
محمد یوسف خان
1973
  • ستمبر
عالمِ اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ صرف اس لئے ہیں کہ وہ بیرونی خطرات کے نرغہ میں ہے بلکہ اس اعتبار سے کہ اس نے خود بھی ایسے حالات پیدا کر لئے ہیں جو نزولِ مصائب اور خارجی فتنوں کے لئے اپنے اندر بلا کی کشش رکھتے ہیں۔ اس لئے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس کردار اور ذہنیت کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد اسے کسی بھی غیر کی ستم ظریفی کا شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔
ادارہ
1972
  • اپریل
بہتر اور اچھے حکمرانوں کی علامات:

22۔ عن عوف بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال:

خیارائمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم و یصلون علیکم و تصلون علیہم ۔ و شرارا ئمتکم الذین تبغضونہم و یبغضونھم و تلعنونھم و یلعنونکم(رواہ مسلم)
ادارہ
1976
  • جولائی
قسط نمبر:1

فروری 1972 میں عالم اسلامن کےسیاسی رہنما اور حکمران پاکستان میں تشریف لائے تو ملک کے اطراف واکناف سے ان کے نام پیغامات تہنیت کے ہدیے پیش کیے گئے تھے۔
ادارہ
1976
  • جنوری
  • فروری
بادشاہ نبی نہیں، عبد رسول:

7. عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ:

یَا عَائِشَۃُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِیَ جِبَالُ الذَّھَبِ، جَاءَنِیْ مَلَکٌ ...... فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَام وَیَقُوْلُ اِنْ شِئْتَ نَبِیًّا عَبْدًا وَاِنْ شِئْتَ نَبِیًّا مَلِکًا؟ فَنَظَرْتَ اِلٰی جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَاَشَارَ اِلَیَّ اَنْ ضَعْ نَفْسَکَ۔
عزیز زبیدی
1976
  • مئی
ملکی دستور کی تدوین میں ہر جگہ اور اس کے ہر پہلو سے بحث کی جاتی ہے، کیونکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے مگر افسوس! اگر اس کا کوئی پہلو تشنہ رہتا ہے تو وہ صرف ملک کے سیاسی سربراہ کی اخلاقی اور دینی حیثیت کا پہلو ہے۔ دوسری اقوام کے لئے تو ممکن ہے، یہ ایک غیر ضروری اور غیر سرکاری بات ہو، لیکن ملتِ اسلامیہ کے لئے اس کی حیثیت دینی اور سرکاری ہے
ادارہ
1973
  • اپریل
صدر ناصر کی وفات کے بعد قاہرہ کی قومی اسمبلی کے ۳۵۳ ممبروں نے وائس پریذیڈنٹ انوار السادات کو رسمی طور پر ملک کا نیا صدر چن لیا۔ مصری دستور کے مطابق یہ انتخابات ۶۰ دنوں کے اندر اندر ہونا تھا مگر یہ انتخاب ۹ دِنوں میں کر لیا گیا۔ اس عجلت کی وجہ خواہ کچھ ہی ہو یہ بات تو عیاں ہے کہ حکومت کا کوئی اہل کار اس نازک وقت پر ایسی رائے نہیں دینا چاہتا تھا جو ایک طرف تو ان کے باطنی جذبات نفرت کی غماز ہو اور دوسری طرف اس مخالفت کی پاداش میں انہیں جن حالات کا سامنا کرنا ممکن تھا،
محمد زبیر
1971
  • جنوری
  • فروری
'اسرائیل' کی جنم، پرورش اور بقا میں بنیادی کردارادا کرنے والا صہیونی ادارہ
گلابی رنگ کی اس خوبصورت عمارت کا نام 'ٹرومین ریسرچ انسٹیٹیوٹ' ہے۔ اس کے حسن کے علاوہ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے منہ موڑ کر کھڑے ہوں تو پورا شہر ایک بڑی تصویر کی طرح نظر آتا ہے؛ دائیں طرف اور سامنے جدید شہر اور بائیں طرف قدیم شہر...!!
رئیس احمد مغل
2004
  • ستمبر
پچهلے دِنوں نيويارك،امريكہ ميں چند مغرب زدہ خواتين و حضرات نے ايك چرچ ميں جمع ہوكر ايك عورت كى امامت ميں نمازپڑهى- ظاہر بات ہے كہ يہ حركت اسلامى تعليمات كے بهى يكسر خلاف تهى اور چودہ سو سالہ مسلمات ِ اسلاميہ سے انحراف بهى- جس پربجا طور پر عالم اسلام ميں اضطراب و تشويش كى لہر دوڑ گئى اور اسے مغربى استعمار كى ايك سازش سمجھا گيا اور اس حركت كا ارتكاب واہتمام كرنے والوں كو ان كا كارندہ قرار ديا گياكيونكہ ہدايت كار (ڈائريكٹر) تو وہى تهے، اور يہ 'نمازيانِ استعمار' تو صرف اداكار تهے-
صلاح الدین یوسف
2005
  • جون
ویسے تو اس وقت پورا مشرقِ وسطیٰ بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اُردن،شام، یمن، بحرین سمیت تقریباً پورے مشرقِ وسطیٰ اور شمال افریقی ممالک میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں لیکن لیبیا کی صورتِ حال خاصی مخدوش ہے جہاں عوامی مظاہروں اور مخالفین کے کئی اہم شہروں پر قبضے کے بعد کرنل قذافی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خونریز تصادم شروع ہوا۔
مقتدی منصور
2011
  • مئی
آج ہم ملکی و ملّی سطح پر جن سنگین مسائل سے دو چار ہیں۔ وہ اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے قومی سطح پر غور و خوض کر کے کوئی متفقہ اور ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی تمام اجتماعی اور انفرادی قوتوں اور وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ صرف اس طرح ہم اس بہت بڑے چیلنج سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں جو آج ہمیں ملکی و ملی سطح پر در پیش ہے۔
عبدالقیوم
1973
  • اپریل
دسمبر 2010ء سے شروع ہوالا عرب انقلاب 15 ماه کے قليل عرصے میں عظيم منازل طے کرچکاہے۔ برسوں سے منجمد عرب کے سمندر میں زندگی انگڑائی لیتی نظر آرہی ہے اور ملت ِمحمدیہ اسلام کی طرف لوٹ رہی ہے۔تیونس،مصر، اورلیبیا کے بعد اب کویت اور یمن میں بھی اسلامی جماعتوں کوسياسی ميدان میں غیرمعمولی کامیابیاں ملی ہیں۔
نعیم ناصف
2012
  • مئی
مغرب اوربرطانیہ کا قومی اور سیاسی کردار منافقت اور خود غرضی کا شاہکارہے۔ دنیا میں امن کے ان سفیر وں کا اندر سے کردار اتنا گھنائونا ہے کہ انسانیت کے خون سے اِن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ وہی انسانیت کے ماتھے پر ایسا بدنما داغ ہیں جو موت کا بیوپار کرتے ہیں اور چند ٹکوں، پرتعیش زندگی کی خاطر دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔
جان پلِگر
2002
  • اکتوبر
  • نومبر
ڈاکٹر عبد الوہاب عزام بے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عالمِ عرب کو اقبال کے نغمۂ شوق سے باخبر کرنے کے لئے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ ان ہی درد مند اور باہمت افراد کی کوششیں ہیں کہ آج عالمِ عرب کی علمی مجالس کلامِ اقبال سے گونجتی ہیں۔ اہلِ نظر اقبال کے نغمۂ شوق سے فیض پاتے ہیں اور عوام مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے مبلّغ کے مجاہدانہ افکار سے ولولۂ تازہ حاصل کرتے ہیں۔
اختر راہی
1972
  • اگست