• Add-LIU
  • Inner title Page 2
  • tabligi-wa-eslahi-programs
     
  • Ramzan AD 2
  • Kitabosunnat -onfrence2015
  • اعلان داخلہ
  • آن لائن پراجیکٹ
  • تبلیغی و اصلاحی پروگرامات
  • سخاوت کیجیے
  • کتاب و سنت کانفرنس
  • 264-Oct-Nov-2002
  • 291-Aug2005
  • 234-Feb-2000
  • Jan13 Small
  • 261-Jun-2002
  • 263-Aug-Sep-2002
  • 233-Jan-2000
  •  265-Des-2002
  • 262-Jul-2002
  • 278-Mar 2004
  • اکتوبر، نومبر2002
  • اگست 2005
  • فروری 2000
  • جنوری 2013
  • جون 2002
  • اگست، ستمبر 2002
  • جنوری 2000
  • دسمبر 2002
  • جولائی 2002
  • مارچ 2004

  • ستمبر
2017
صلاح الدین یوسف
فقہی جمود نے غیروں کو جگ ہنسائی کا موقع دے دیا!!  إنا لله وإنا إليه راجعون
ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ اگرچہ صدیوں سے مختلف فیہ چلا آرہاہے لیکن جب تک اسلامی یا مسلمان معاشروں میں شریعت پر عمل کا جذبہ توانا، مرد اور عورت کے باہمی حقوق کی پاسداری کا خیال فراواں اور ہمدردی و تعاون کا سکہ رواں رہا، اس مسئلے نے زیادہ گھمبیر شکل اختیار نہیں کی تھی
  • ستمبر
2017
خاور رشید بٹ
جناب مسیح ﷤ کا خود کے بارے میں دعوائے نبوت نہ کہ دعوائے اُلوہیت !
1.     قرآن مجید نے تو واضح الفاظ میں مسیح ﷤ کے رسول ہونے کی صراحت کی ہے ۔اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
﴿مَا المَسيحُ ابنُ مَريَمَ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ انظُر كَيفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الءايـٰتِ ثُمَّ انظُر أَنّىٰ يُؤفَكونَ ﴿٧٥﴾... سورة المائدة
  • ستمبر
2017
عبد الرحمن السدیس
فضیلۃ الشیخ اما م کعبہ ﷾ اپنی عظیم دینی ذمہ داری کے ساتھ سعودی حکومت میں بڑے اہم منصب ’حرمین شریفین کے ڈائریکٹوریٹ کے چیئرمین ‘ کی ذمہ داری بھی ادا کررہے ہیں۔ اس بناپر آپ کی زیر نظر تحریر میں شریعتِ اسلامیہ کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت کے موقف کی ترجمانی کا پہلو بھی ہے جو وہ دہشت گردی کے تناظر میں پیش نظر رکھتی ہے۔ مغالطوں کی وضاحت کے دوران اس اہم پہلو کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ ادارہ
  • ستمبر
2017
حسن مدنی
عالمی نشریاتی ادارے اوریورپی حکومتیں ، امریکی جھوٹ   کی تصدیق کرتے ہیں!!
سید المرسلین نبی مکرّمﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے:
«يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا». فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلٰكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ! وَلَيَنْزَعَنَّ اللهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْـمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ»، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: «حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْـمَوْتِ»